ہائیکورٹ سے پیاروں کی رہائی کا حکم ملنے کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے اُن کے بچوں کو پابند سلاسل رکھا جا رہا ہے، لواحقین
گھر میں مرد نہیں ،دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہے ،ساہیوال جیل میں قید بیٹے سے ملاقات کیلئے کیسے جائوں؟ بزرگ خاتون کی فریاد
پشاور( مدثر زیب سے) ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کے زیر اہتمام صوبے کے مختلف اضلاع سے گمشدہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی گمشدگی کے خلاف آواز اٹھانے پشاور پریس کلب پہنچ گئے۔
ہری پور، مردان، پشاور کی جیلوں میں قید سابق جبری گمشدہ افراد کے لواحقین نے روتے ہوئے فریاد سناتے ہوئے بتایا کہ ہائیکورٹ سے پیاروں کی رہائی کا حکم ملنے کے باوجود مختلف حیلے بہانوں سے اُن کے بچوں کو پابند سلاسل رکھا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل نا صرف ان کے بیوی بچوں ،غریب ضعیف والدین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے بلکہ اب جیل اصلاحات کے نام پر ہمارے بچوں کو دوسرے صوبوں کی جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
لاپتہ افراد جن کو پشاور ہائیکورٹ کے احکامات پر بازیاب کرایا گیا تھا کے والدین اور لواحقین نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے تقریباً دو سو شہری قیدیوں کو منتقل کیا جا چکا لیکن سابق گمشدہ قیدیوں کو پنجاب کی دوردراز جیلوں میں بھیجا جا رہاہے۔پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں شریک خاتون نے بتایا کہ ہم غریب لوگ ہیں جبکہ ہمارے پیاروں کو خیبرپختونخوا کی بجائے پنجاب کی جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جو ہمارے ساتھ سراسر زیادتی ہے ، غریب خاتون نے بتایا کہ میرے گھر میں مرد نہیں ہیں جبکہ دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہے چہ جائیکہ میں ساہیوال کی جیل میں قید بیٹے سے ملاقات کے لئے جائوں۔




انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی و دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ غریب لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا نوٹس لیا جائے اور پنجاب سے قیدی واپس خیبرپختونخوا کی جیلوں میں منتقل کئے جائیں۔مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جن میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔
![]()