خطرنا

ک قیدیوں کا ٹھپہ لگا کر ہمارے بچوں کو پنجاب منتقل کیا گیا، والدین کی پشاور پریس کلب میں فریاد
پشاور(مدثر زیب سے) خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد جن کو پشاور ہائی کورٹ کے احکامات پر بازیاب کرایا گیا تھا،کے والدین اور لواحقین نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچوں کو پنجاب جیلوں سے واپس خیبرپختونخوا کی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اینڈ پبلک سروسز ٹرسٹ کے نمائندے آفتاب علی شاہ نے بتایا کہ اب تک خیبر پختونخوا سے 100 کے قریب افراد کو پنجاب کی دور دراز جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان سے پیاروں کی ملاقات بھی دشوار ہو چکا ہے، قیدیوں کو پنجاب کی جیلوں میں منتقل کرنا سراسر زیادتی ہے کیونکہ قیدیوں کے والدین کی اکثریت ضعیف العمر افراد پر مشتمل ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک ضعیف العمر خاتون نے بتایا کہ کرائے کے گھر میں قیام اور مختلف بیماریوں کا شکار ہونے کے باوجود قرض لے کر بیٹے سے ملاقات کیلئے ساہیوال جانا پڑتا ہے جو کہ اس مہنگائی کے دور میں ہمارے لئے ممکن نہیں۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید نوجوانوں کے والدین نے پشاور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو خیبر پختونخوا کی جیلوں میں منتقل کیا جائے کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں اور لمبے سفر کے قابل نہیں، انہوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا سے خطرناک قیدیوں کا ٹھپہ لگا کر مزید قیدیوں کو پنجاب منتقل نہ کیا جائے اور تاحال جتنے بھی قیدی پنجاب منتقل ہوئے ہیں انہیں خیبر پختونخوا کی جیلوں میں واپس لایا جائے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے