
یہ بیانیہ کہ مذہب یا علماء انسان کو عقل کا دشمن بناتے ہیں، دراصل ایک جذباتی اور یک رُخی تجزیہ ہے جس میں چند افراد کے رویّوں کو پورے دین کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تاریخ کا اصول یہ ہے کہ نظریات نہیں بگڑتے بلکہ انسان اپنے مفادات کے تحت نظریات کو بگاڑ دیتے ہیں، اور پھر اسی بگاڑ کو اصل نظریے کے خلاف بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں کچھ لوگ مذہب کو ذاتی فائدے، طاقت یا شہرت کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، مگر اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ پورا مذہب ہی استحصال کا نظام ہے، علمی دیانت کے خلاف ہے۔ جیسے چند بدعنوان سیاستدان پوری جمہوریت کو باطل نہیں کرتے، ویسے ہی بعض علما پورے دین کو غلط ثابت نہیں کر سکتے۔
اگر اسلام واقعی عقل دشمن ہوتا تو مسلمان تاریخ میں علم کے میدان میں وہ کردار ادا نہ کرتے جو انہوں نے کیا۔ الجبرا، طب، کیمیا، فلکیات اور فلسفہ جیسے علوم میں مسلمانوں کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دین اور عقل میں کوئی فطری تصادم نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کے تکملہ ہیں۔
دنیا میں کینسر کا علاج تلاش کرنا یقیناً انسانیت کی خدمت ہے، مگر یہ سوچ کہ سائنس نے انسان کو عزت دی اور مذہب نے چھین لی، ایک مصنوعی تقسیم ہے۔ انسان کی جان کی قدر کا تصور بھی کسی لیبارٹری میں نہیں بلکہ اخلاقی شعور میں جنم لیتا ہے، اور اخلاقی شعور ہمیشہ کسی نہ کسی نظریاتی بنیاد سے جڑا ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ نہیں بلکہ توازن کا فقدان ہے۔ سائنس انسان کو طاقت دیتی ہے، مگر طاقت کو اخلاق نہ ملے تو وہ تباہی بن جاتی ہے۔ مذہب انسان کو اخلاق دیتا ہے، مگر اخلاق کو شعور نہ ملے تو وہ جمود بن جاتا ہے۔ دونوں کا امتزاج ہی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔
یہ کہنا کہ مولوی خوف کا کاروبار کرتے ہیں، ایک حد تک مشاہدہ ہو سکتا ہے مگر اسے کلی حقیقت بنا دینا خود ایک قسم کی فکری ناانصافی ہے۔ ہر طبقے میں مخلص لوگ بھی ہوتے ہیں اور مفاد پرست بھی، مگر ہم صرف منفی مثالوں کو اٹھا کر پورے طبقے کی تصویر بنا لیتے ہیں۔
مذہب کو صرف خوف کا نظام کہنا اس لیے بھی غلط ہے کہ دین انسان کو صرف ڈرا کر نہیں بلکہ سنوار کر بھی پیش کرتا ہے۔ خوف کے ساتھ امید، سزا کے ساتھ معافی اور قانون کے ساتھ رحم دین کی بنیادی روح ہے، جسے اکثر تنقیدی بیانیوں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
عورت کے بارے میں یہ تصور کہ اسلام اسے دبانے کا فلسفہ ہے، زیادہ تر جدید سماجی بیانیے کی پیداوار ہے، نہ کہ دینی متون کی۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جس دور میں عورت کو جائیداد سمجھا جاتا تھا، اسی دور میں اسلام نے اسے قانونی شخصیت دی۔
عورت کے لباس، آواز اور آزادی کو مذہب سے جوڑ کر پیش کرنا اکثر ثقافتی مسائل کو دینی رنگ دینے کے مترادف ہے۔ ہر معاشرے نے اپنے رسم و رواج کو مقدس بنا کر پیش کیا، اور پھر اسی تقدس کو دین سمجھ لیا گیا۔
اسلام میں عورت کو ماں کے روپ میں سب سے بلند درجہ دیا گیا، بیٹی کو رحمت اور بیوی کو سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ یہ تصورات کسی بھی کنٹرول کے فلسفے سے زیادہ انسانی احترام کے فلسفے سے قریب ہیں۔
اگر کچھ علماء عورت کے بارے میں سخت یا محدود رویّہ رکھتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فہم ہے، دین کا حتمی موقف نہیں۔ جیسے کسی ڈاکٹر کی غلط تشخیص سے پوری میڈیکل سائنس کو رد نہیں کیا جاتا، ویسے ہی کسی عالم کی سختی سے پورے مذہب کو نہیں جھٹلایا جا سکتا۔
یہ الزام کہ علماء عورت کو برابر انسان نہیں سمجھتے، زیادہ تر جذباتی ردعمل کا نتیجہ ہے۔ اصل متون میں عورت کو انسان ہونے کے ناطے مرد کے برابر عزت دی گئی ہے، فرق صرف ذمہ داریوں میں رکھا گیا ہے، قدر میں نہیں۔
اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو اخلاقی حدود کا پابند بنایا گیا ہے، مگر عملی طور پر معاشروں نے ان حدود کا بوجھ زیادہ تر عورت پر ڈال دیا، اور مرد کو نسبتاً آزادی دے دی۔ یہ رویّہ مذہب کی تعلیم نہیں بلکہ سماجی کمزوری کی علامت ہے، کیونکہ دین نے ذمہ داری دونوں پر یکساں رکھی ہے مگر ہم نے سہولت کے مطابق تشریح کر لی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو سمجھنے کے بجائے اسے یا تو مکمل رد کرنے کا ہتھیار بنا لیا ہے یا پھر اندھی تقدیس کا موضوع۔ دونوں صورتوں میں ہم حقیقت تک نہیں پہنچ پاتے، کیونکہ رد کرنے والا بھی سننے کو تیار نہیں اور ماننے والا بھی سوال کرنے کو گناہ سمجھتا ہے، جبکہ حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہوتی ہے۔
دین نہ عورت کا دشمن ہے نہ مرد کا آقا، بلکہ یہ دونوں کے لیے ایک اخلاقی فریم ورک فراہم کرتا ہے تاکہ طاقت کمزور کو نہ کچل سکے اور آزادی ذمہ داری کے بغیر بے راہ روی میں نہ بدلے۔ اگر اخلاقی حدود نہ ہوں تو طاقت ظلم بن جاتی ہے اور آزادی انتشار، اور یہی وہ توازن ہے جو مذہب قائم کرنا چاہتا ہے۔
اگر واقعی دین صرف کنٹرول کا نظام ہوتا تو سب سے زیادہ پابندیاں مرد پر ہوتیں، کیونکہ طاقت، سیاست اور فیصلہ سازی ہمیشہ سے اسی کے ہاتھ میں رہی ہے۔ مگر اسلام سب سے پہلے مرد کو نگاہ نیچی رکھنے، اپنی خواہش پر قابو رکھنے اور عورت کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اصل ہدف کنٹرول نہیں بلکہ اصلاح ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مغربی معاشروں میں عورت کو قانونی اور سماجی برابری ملنے میں صدیوں لگیں، اور اس جدوجہد میں بے شمار قربانیاں دینی پڑیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے ابتدا ہی میں عورت کو وراثت، نکاح اور شناخت کا حق دیا، جو اس وقت کے عالمی معیار سے کہیں آگے کی سوچ تھی۔
مذہب کو جبر کہنا اس لیے بھی سادہ لوحی ہے کہ کوئی بھی نظریہ خود انسان کو مجبور نہیں کرتا، بلکہ انسان اپنی سہولت کے مطابق اسے سخت یا نرم بنا لیتا ہے۔ اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ اس کی تشریح کرنے والے افراد ہیں، جو اکثر اپنے مفادات کو اصولوں سے اوپر رکھ دیتے ہیں۔
اصل خطرہ دین نہیں بلکہ انتہا پسندی ہے، چاہے وہ مذہبی ہو یا لبرل۔ جب کوئی بھی سوچ خود کو حرفِ آخر سمجھنے لگے اور اختلاف کو دشمنی سمجھ لے تو وہ ظلم میں بدل جاتی ہے، کیونکہ پھر مقصد انسان نہیں بلکہ نظریہ بن جاتا ہے۔
علماء کا اصل کردار لوگوں کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ انہیں شعور دینا، سوال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور اخلاقی سمت دکھانا ہے۔ مگر جیسے ہر استاد اچھا نہیں ہوتا اور ہر لیڈر مخلص نہیں ہوتا، ویسے ہی ہر عالم بھی مثالی نہیں ہوتا، اور انفرادی خامیوں کو اجتماعی جرم بنا دینا انصاف نہیں۔
کچھ افراد کے غلط رویّوں کو بنیاد بنا کر پورے دین کو رد کرنا دراصل اسی فکری جبر کی ایک اور شکل ہے جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ رویّہ ہمیں ایک انتہا سے دوسری انتہا پر لے جاتا ہے، جہاں ہم ظلم سے نفرت کرتے ہوئے انصاف کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔
اسلام انسان کو اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر، خود احتسابی اور شعور کی دعوت دیتا ہے، مگر ہم نے خود سوال کرنے کے بجائے یا تو نفرت کو راستہ بنا لیا یا تقدیس کو۔ نہ ہر بات ماننا دانشمندی ہے اور نہ ہر بات رد کرنا، اصل عقل توازن میں ہے۔
اصل مسئلہ مذہب نہیں بلکہ انسان ہے۔ دین اپنی اصل میں نہ خوف کا کاروبار ہے نہ عورت کو دبانے کا منصوبہ، بلکہ انسان کو اخلاق، توازن اور شعور دینے کی ایک مسلسل کوشش ہے، جسے ہم نے اپنی کوتاہیوں، تعصبات اور غلط ترجیحات سے بگاڑ دیا ہے۔
![]()