ڈاکٹر خلیل طوقار کی اردو ادب کے لیے گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حذیفہ رحمان

ادب و ثقافت کے فروع کے ذریعےپاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو نئی جہت عطا کر رہے ہیں۔عرفان نذیر اوغلو

ڈاکٹر خلیل طوقار نے اپنی انتھک محنت سے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ادبی اور ثقافتی پل تعمیر کیا ہے۔ فرخ ناز اکبر

اُردو ادب کی بے مثال خدمت ڈاکٹر خلیل طوقار کی پاکستان سے گہری روحانی اور فکری وابستگی مظہر ہے۔ نجیبہ عارف

پاکستان سے ملنے والی محبت میرے لیے انمول سرمایہ ہے۔ڈاکٹر خلیل طوقار

اسلام آباد (پ۔ر)اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام زبان و ادب کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر معروف ترک ادیب، دانشور اور محقق پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار ستارۂ امتیاز کے اعزاز میں ایک خصوصی ادبی و ثقافتی نشست منعقد کی گئی۔تقریب کے مہمانانِ خصوصی حذیفہ رحمان معاونِ خصوصی برائے وزیرِ اعظم، قومی ثقافت و ورثہ ڈویژن اور عرفان نذیر اوغلو سفیرِ جمہوریہ ترکیہ برائے پاکستان تھے، جبکہ مہمانانِ اعزاز میں محترمہ فرخ ناز اکبر پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم و قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، ڈاکٹر مہمت طوئران ایجوکیشنل قونصلر سفارت خانۂ ترکیہ پاکستان اور ڈاکٹر کامران جہانگیر منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض منیر فیاض نے انجام دیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ ڈاکٹر خلیل طوقار کی اردو ادب کے لیے گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان جیسے ادارے پاکستان کی سافٹ امیج کی نمائندگی کرتے ہیں اور ڈاکٹر خلیل طوقار کی خدمات کے اعتراف میں اس تقریب کا انعقاد اکادمی ادبیات پاکستان کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرخ ناز اکبر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر خلیل طوقار نے اپنی انتھک محنت سے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان جو ادبی اور ثقافتی پل تعمیر کیا ہے وہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خلیل طوقار ترکیہ میں پاکستان اور اردو ادب کے ایک سچے سفیر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔سفیرِ جمہوریہ ترکیہ عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں اور ادب و ثقافت ان تعلقات کو نئی جہت عطا کر رہے ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر مہمت طوئران نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی اور ادبی روابط ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خلیل طوقار کی خدمات دونوں ممالک کے تعلیمی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ڈاکٹر کامران جہانگیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتاب، مطالعہ اور ادب ہی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جو اقوام کو فکری طور پر جوڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور اکادمی ادبیات پاکستان ایسے ادبی روابط کے فروغ کے لیے مشترکہ کاوشوں کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان کی صدرنشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے تعارفی خطاب میں ڈاکٹر خلیل طوقار کی پاکستان سے گہری روحانی اور فکری وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کے لیے ان کی بے لوث خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادب سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا۔ انہوں نے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اکادمی کے ادبی و ثقافتی مشن پر روشنی ڈالی۔تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ پاکستان سے بے پناہ محبت کے باعث ڈاکٹر خلیل طوقار کو بھارت میں سفری پابندیوں کا سامنا ہے تاہم اس کے باوجود انہوں نے پاکستان اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے اپنی خدمات کو جاری رکھا ہوا ہے۔ڈاکٹر اشرف کمال نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر خلیل طوقار کی علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات کو پاک ترک تعلقات کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر مہمانانِ خصوصی اور دیگر معزز شرکا نے ڈاکٹر خلیل طوقار کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر خلیل طوقار نے کہا کہ پاکستان سے ملنے والی محبت اور عزت ان کے لیے ایک انمول سرمایہ ہے اور اردو زبان و ادب سے ان کا تعلق محض علمی نہیں بلکہ قلبی اور روحانی ہے۔ انہوں نے اپنے اعزاز میں تقریب منعقد کرنے پر چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان اور تمام شرکاء کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ادبی و ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
(یوسف خان)
اسسٹنٹ انچارج پی آر او

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے