
سابق مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبرپختونخوا اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوگا، صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ آپریشن کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متضاد بیانات لمحہ فکریہ ہیں اور جواب در جواب پریس کانفرنسز سے امن بحال نہیں ہو سکتا۔
اجمل وزیر نے یہ بات اتوار کے روز پشاور میں آلطاف ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ وادی تیراہ کے لیے صوبائی حکومت نے چار ارب روپے جاری کیے ہیں، تاہم یہ رقم آٹھ ارب روپے ہونی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختص فنڈز کو شفاف انداز میں صرف متاثرہ اور نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی امداد پر خرچ کیا جائے، کیونکہ بروقت ریلیف نہ ملنے کی صورت میں کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومتیں دعویٰ کر رہی ہیں کہ کوئی آپریشن نہیں ہو رہا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدید سردی اور برف باری میں تیراہ کے عوام کو گھر چھوڑنے پر کس نے مجبور کیا۔ اجمل وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور صوبہ ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں جبکہ متاثرہ قبائل مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 2014 کے 20 نکات اور 2021 کے 14 نکات پر نہ وفاق نے عمل کیا اور نہ صوبے نے، جس کی وجہ سے آج حالات گھمبیر ہو چکے ہیں۔ اجمل وزیر نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ پشاور آکر سیکیورٹی اداروں اور صوبائی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاملات حل کریں۔
اجمل وزیر نے بلوچستان میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے معاملے پر مرکز اور صوبے کو ایک پیج پر ہونا چاہیے تاکہ سرمایہ کاری اور عوام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
![]()