گھر بار پر مافیا قابض، درد ر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، ریگی،غزالی گڑھی کے یتیم بہن بھائیوں کی پریس کانفرنس


پشاور(مدثر زیب سے) پشاور کے نواحی علاقے ریگی، غزالی گڑھی کے رہائشی یتیم بہن بھائی 15 سالہ بھائی کے قتل میں ملوث افراد کی عدم گرفتاری کے خلاف پشاور پریس کلب پہنچ گئے۔یتیم بہن بھائیوں نے شہید ہونے والے بھائی محمد عثمان اور مبینہ طور پر سابق ناظم کرامت اللہ جن پر قتل کا الزام ہے کی تصاویر والے بینر اٹھا رکھے تھے۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم بی بی ولد رحمان اللہ مرحوم نے کہا کہ یہ معاملہ ایک یتیم بچے کے قتل اور انصاف کے قتل کا معاملہ ہے، سابق ناظم کرامت اللہ نے جرگہ میں حلف اٹھایا لیکن اس مقدس حلف کو توڑتے ہوئے نہ صرف جرگہ کی توہین کی بلکہ قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ اس کے لالچ، جائیداد کی ہوس نے ہم سے ہمارا بھائی چھین لیا۔

مریم بی بی نے مزید بتایا کہ صبح سات بجے کے قریب ہمارے گھر کے دروازے کو توڑا گیا جس کی ویڈیو موجود ہے، یہ کارروائی یونس, یوسف،اسحاق، عمران،عارف اللہ نے کرامت اللہ کے کہنے پر کی۔ اس کے بعد ملزمان گھر کے گیٹ کی جانب آئے جہاں کرامت اللہ نے خود میرے بھائی محمد عثمان پر فائرنگ کر کے اسے بے دردی سے قتل کر دیا ، اسی دوران وہ ہم سب کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر ہم گولیوں سے بال بال بچ گئے۔ مریم بی بی نے کہا کہ ویڈیو میں کرامت اللہ کے ساتھ یونس، یوسف اسلحہ کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں اور یوسف جو اپنی ایف سی ٹریننگ کا ناجائز استعمال کر رہا تھا اس کے ساتھ تحسین اللہ، اسحاق، عمران اور عارف اللہ موجود تھے۔ بھائی کے قتل کے بعد ان افراد نے ہمیں بھی قتل عام کی دھمکیاں دیں جس کے بعد انہوں نے زبردستی ہمارا گھر، ہماری دکانیں اور ہمارا حجرہ قبضے میں لے لیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ سارا ظلم اس لئے کیا گیا کہ کرامت اللہ چاہتا تھا کہ اس 32 مرلہ اراضی پر اپنے گھر کے سامنے باغ بنوا سکے جس کیلئے اس نے طاقت، غنڈوں کا سہارا لیا۔اس حوالے سے کافی جرگے بھی ہوئے لیکن سابق ناظم کرامت اللہ کو اس مسئلے کا حل منظور نہیں تھا۔

مریم بی بی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محمد عثمان کو جن افراد نے قتل کیا اُن کے خلاف ایف آئی آر ہی درج نہیں کی گئی جبکہ مخالفین کی ایف آئی آر الٹا ہمارے خلاف کاٹی گئی جبکہ پولیس کے کہنے کے مطابق ہماری رپورٹ اس لئے درج نہیں کی گئی کہ ایک ہی واقعے کی دو ایف آئی آر نہیں کاٹی جا سکتیں لہٰذا ہم سے تھانے میں درخواست لی گئی ۔صحافیوں کے سوالات کے جوابات میں مریم بی بی نے بتایا کہ قتل کے بعد ان ظالم افراد نے ہم سے ہمارا گھر بار چھین لیا اور دکانوں پر قبضہ جما لیا جبکہ ان ہی دکانوں سے آنے والا 21 ہزار روپے کرایہ جس پر ہماری گزربسر تھی ، اب وہ بھی نہیں رہا۔ مریم بی بی نے کہا کہ عارف اللہ ولد بہرام، تحسین اللہ ولد ضمیر ، ،عمران ولد نیاز ،یونس ولد ضمیر،محمد ندیم ولد نیاز محمد ہمیں قتل اور اغوا کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھر بار چھوڑ کر رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ اپنے بھائی کی طرح ہمیں بھی قتل نہ کر دیا جائے۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی محمد عثمان جسے جائیداد تنازعہ پر مبینہ طور پر سابق ناظم کرامت اللہ نے دن دیہاڑے گولی مار کر قتل کیا تھا کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور ساتھ ہی ہمارے گھربار ، حجرہ پر قبضہ جمانے والے قبضہ مافیا کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ہمارا گھر ہمیں واپس دلایا جائے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے