
ماہر قبائلی امور و تجزیہ کار صحافی خیال مت شاہ آفریدی ۔
آٹے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے خیبر پختونخوا کے غریب عوام کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف وادی تیراہ کے متاثرین بھوک دربدری، رہائش اور سہولیات کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے حال ہی میں تیراہ میدان میں مختلف رجسٹریشن کیمپوں کا آنکھوں دیکھا حال دیکھا، راستوں میں بچوں اور بچیوں کی فریادبھوک اور بیماری کا منظر دیکھ کر انسانیت لرز اٹھی۔ گزشتہ روز ایک بیمار بچے کی آہوں اور سسکیوں نے مجھے خون کے آنسو رلایا۔ ریاست جب شہریوں کو دشمن سمجھ کر برتاؤ کرے تو پھر انسانیت کہاں کھڑی رہتی ہے؟
خیبر پختونخوا اس وقت شدید آٹے کے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور غریب عوام روزانہ اپنی بنیادی غذائی ضرورت کے لیے قطاروں میں لگے نظر آتے ہیں۔ بازاروں میں آٹے کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ تنخواہیں روزگار اور معاشی حالات پہلے ہی زوال کا شکار ہیں۔ بقول وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ،یکطرفہ طور پر کیے گئے بیوروکریٹک فیصلوں اور بین الصوبائی ترسیل پر غیر علانیہ پابندیوں نے عام شہری کی روزی روٹی پر حملہ کر دیا ہے۔ عوام کا یہ سوال بجا ہے کہ پاکستان جیسے وفاقی ملک میں ایک صوبہ کیسے دوسرے صوبے کو بنیادی غذائی اجناس سے محروم کر سکتا ہے اور وفاق اس پر خاموش کیوں ہے؟ پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی ترسیل کو روکنا ایسی ہی مثالوں میں شامل ہے جس سے نہ صرف خیبر پختونخوا کی غذائی سلامتی خطرے میں پڑی بلکہ یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 151 میں درج بین الصوبائی تجارت اور آزاد نقل و حرکت کی بنیادی ضمانت کے بھی خلاف ہے۔
آٹے کی یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی بدنیتی کا شک پیدا کرتا ہے۔ پشتونوں اور بالخصوص قبائلی عوام کے نزدیک پنجاب کے طاقتور حلقے ہمیشہ سے غذائی سپلائی کو ایک ہتھیار اور دباؤ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ تاثر اس وقت زیادہ گہرا ہوا جب ایک طرف قبائلی علاقوں بالخصوص وادی تیراہ سے لاکھوں لوگوں کو سیکورٹی اور عسکری اقدامات کے نام پر ان کے گھروں سے بیدخل کیا گیا اور دوسری طرف آٹے گندم اور غذائی اجناس کی ترسیل روک کر انہیں بھوک اور محرومی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا۔
قبائلی لوگ اور بالخصوص وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین اس صورتحال کو ایک سازش کے طور پر دیکھتا ہے جس کا ہدف نہ صرف علاقائی کنٹرول بلکہ انسانی آبادی کو کمزور کرنا ہے۔ قبائلی متاثرین کہتے ہیں کہ اگر انہیں ان کے علاقوں سے بے دخل کر کے باہر کیمپوں اور شہروں میں پناہ لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ ساتھ ہی غذائی سپلائی بھی محدود کی جا رہی ہے تو یہ عمل محض عسکری یا انتظامی نہیں بلکہ نسل اور خطے کو کمزور کرنے کی ایک منظم پالیسی ہے۔ ان کے نزدیک یہ منصوبہ قبائل کو شہری حقوق اور آئینی آزادی سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ جنگی معیشت کے تسلسل اور بیرونی ایجنڈوں کے لیے ماحول سازگار رکھتا ہے۔
قبائلی متاثرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ریاست اور وفاق نہیں چاہتے کہ وہ حقوق، شہری ذمہ داری اور آئینی اہمیت کا احساس کریں کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں وہ نہ جنگی بیانیے کا حصہ رہیں گے اور نہ کسی عالمی ایجنڈے کے تحت استعمال ہو سکیں گے۔ خاص طور پر یہ تاثر موجود ہے کہ اگر قبائلی خطہ تعلیم یافتہ بااختیار اور ترقی یافتہ ہو گیا تو پھر ریاست بیرونی دنیا سے دہشت گردی اور آپریشنز کے نام پر فنڈز حاصل نہیں کر سکے گی اور نہ معدنیات تک رسائی کی زمینی راستوں اور ممکنہ امریکی اڈوں جیسے سٹریٹیجک فوائد برقرار رہیں گے۔
وادی تیراہ سے حالیہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی اس سلسلے کی تازہ مثال ہے جسے مقامی سیاسی لوگ محض سیکورٹی آپریشن نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی سمجھتے ہیں کیونکہ پشتونوں کے نزدیک جنگی حالات جبری بے دخلی اور غذائی قلت دراصل ایک ہی پالیسی کے مختلف پہلو ہیں۔ قبائل یہ بھی کہتے ہیں کہ اس عمل کا مقصد ان کی نسل کو خاموشی سے ختم کرنا، ان کے علاقے خالی کرانا اور ان کی زمینیں اور معدنی وسائل عالمی طاقتوں اور ریاستی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے۔
یہ سارا معاملہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے پیمانے پر بھی سنگین ہے کیونکہ جبری بے دخلی، بھوک اور بنیادی غذائی سپلائی کو روکنا نسل کشی، جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تصور ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں قبائل کی صدیوں پرانی جدوجہد اور وفاق کی موجودہ پالیسیوں میں ٹکر کھل کر سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب محض اتفاق ہے یا یہ ریاستی پالیسی اور عالمی سٹریٹیجک سودوں کی ایک سوچا سمجھا ترتیب ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر یہ بحث صرف پاکستانی سیاست نہیں بلکہ انسانی حقوق، عالمی قانون اور اخلاقی انصاف کی حدود تک جاتی ہے۔۔۔
![]()