ٹانک (گوہر ترین)
ٹانک: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم خان کنڈی نے پولیس لائن ٹانک کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حالیہ دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر گورنر نے یادگارِ شہداء پر سلامی دی، شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
دورے کے دوران گورنر خیبر پختونخوا نے علاقائی مشران اور شہید پولیس اہلکاروں کے ورثاء سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے شہداء نے امن و امان کے قیام کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں جنہیں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنا صوبائی اور وفاقی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی آپریشن کی مخالفت محض میڈیا بیانات تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں جو خود آپریشن کی منظوری کا ثبوت ہیں۔
گورنر نے کہا کہ اس وقت صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں، تاہم اگر ضرورت پیش آئی تو آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ملکی مفاد میں ضرورت پڑنے پر فوج طلب کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے اور ایسے فیصلے قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 8 فروری کو کوئی احتجاج نہیں کرے گی، تاہم اگر کسی قسم کی صورتحال پیدا ہوئی تو وفاقی حکومت اس سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
آخر میں گورنر نے پولیس فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں۔ حکومت پولیس کی فلاح و بہبود، شہداء کے ورثاء کی دیکھ بھال اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے