تیراہ کے عوام کو شدید برفباری کے دوران زبردستی گھروں سے نکالا گیا، اور کئی خاندان مشکلات میں پھنس گئے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے عوام کی جبری بے دخلی پر حقیقت دنیا کے سامنے ہے اور یہ عمل کسی بھی صورت میں رضاکارانہ نہیں تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے اور فضائی بمباری کی گئی، جس میں بے گناہ شہری شہید ہوئے، اور میڈیا نے ان معصوم افراد کو دہشتگرد ظاہر کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 9 اپریل 2022 کے رجیم چینج آپریشن کے بعد خیبر پختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی کے منصوبے بنائے گئے، اور مراد سعید کی قیادت میں احتجاج ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں وہ خیبر پختونخوا اور قبائلی عوام کے حقوق کا مضبوط مؤقف پیش کریں گے۔ متاثرین کے لیے جاری اربوں روپے صرف عوام کی فلاح کے لیے ہیں اور کسی کو خردبرد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر صوبے کے مجموعی واجبات 4758 ارب روپے ادا نہ کرنے کا الزام لگایا جبکہ صوبائی حکومت نے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز کے لیے سات ارب روپے فراہم کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کے سپاہی اور قبائلی عوام کے نمائندہ ہیں، اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے جینے اور مرنے تک لڑیں گے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے