خیال مت شاہ افریدی قبائلی صحافی وتجزیہ کار

باڑہ سیاسی اتحاد نے تیراہ سے حالیہ اور سابقہ آپریشنوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی ہمدردی اور بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تیراہ متاثرین کو فوری اور باعزت طور پر ان کے علاقوں میں بحال کیا جائے۔ سیاسی اتحاد باڑہ کے صدر ہاشم خان آفریدی کی جانب سے جاری متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین نے ریاست کے ساتھ تعاون صبر اور قربانی کی بے مثال مثالیں قائم کیں مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سنگین قومی مسئلہ ہے جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔ سیاسی اتحاد باڑہ نے مطالبہ کیا کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے جبکہ فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر حملے اور کواڈ کاپٹر گرانے جیسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں کیونکہ ان سے عام شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
اعلامیے کے مطابق تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور نقل مکانی کے دوران کیے گئے تمام وعدے اور معاہدے تحریری و عملی طور پر تسلیم اور نافذ کیے جائیں۔ رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقرباپروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ سیاسی اتحاد نے واضح کیا کہ تیراہ میں گھر یا جائیداد رکھنے والے تمام افراد کو بلا امتیاز آئی ڈی پیز اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹر کیا جائے اور امدادی پیکیج میں شامل کیا جائے جبکہ پولیو لسٹ یا نادرا کی من پسند اور خودساختہ رجسٹریشن کسی صورت قبول نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تیراہ میں بدامنی کے اثرات اب اپر باڑہ اور باڑہ پلین ایریا تک پھیل چکے ہیں لہٰذا امن و امان کی تشویشناک صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر کنٹرول کیا جائے۔ اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور عوام میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔ قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے باقاعدہ طور پر باڑہ امن تحریک کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔
اسی سلسلے میں سیاسی اتحاد کے زیرِ نگرانی منعقدہ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور عسکری ادارے باہمی اختلافات ترک کر کے تیراہ متاثرین کی مشکلات اور ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کا فوری ازالہ کریں۔ مقررین نے زور دیا کہ نقل مکانی کے دوران کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں ہم تیراہ، باڑہ بالخصوص اور پورے ضلع خیبر میں پائیدار امن کی ضمانت چاہتے ہیں۔
جرگہ میں واضح کیا گیا کہ تیراہ سے نقل مکانی اندھے مارٹر گولوں، روزانہ کی بنیاد پر فائرنگ اور بدامنی کے باعث ہوئی۔ مقررین نے یاد دلایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ وہ نہ آپریشن کی حمایتی ہے اور نہ نقل مکانی کے حق میں تاہم اگر لوگ نقل مکانی کر گئے تو ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا جس پر اب عملدرآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔
جرگہ کے دوران مقررین نے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین کی رجسٹریشن کے حوالے سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سراسر غلط اور گمراہ کن ہیں جس کے باعث حقیقی متاثرین شدید ناانصافی کا شکار ہو رہے ہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ جن افراد کے تیراہ میں گھر اور جائیداد موجود ہے انہیں فوری طور پر آئی ڈی پیز کے طور پر رجسٹر کیا جائے۔
عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر کے صدر اور سفیرِ امن عبدالرازق آفریدی نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ رجسٹریشن کے عمل میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں بلکہ محض ڈرامہ رچا رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ کو خبردار کیا کہ متاثرینِ تیراہ کو سیاسی مہم یا نمائشی بیانات کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ انہیں ان کا آئینی حق دیا جائے۔
جرگہ کے دوران اس وقت بدمزگی پیدا ہوئی جب اے این پی خیبر کے صدر کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی پر تنقید کے بعد پی ٹی آئی کارکنان برہم ہو گئےتاہم جرگہ منتظمین نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پا لیا اور جرگہ نظم و ضبط کے ساتھ جاری رہا۔
آخر میں جرگہ نے اس امر پر زور دیا کہ قبائلی اضلاع میں بدامنی کا واحد حل باہمی اتحاد و اتفاق ہےاور امن کے قیام کے لیے صرف تیراہ یا باڑہ نہیں بلکہ پوری قبائلی بیلٹ میں مشترکہ اور منظم امن تحریکوں کا آغاز کیا جانا چاہیے۔
جرگہ سے سیاسی اتحاد باڑہ کے صدر ہاشم خان نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا جبکہ سیاسی اتحاد کے رہنما مراد خان، خان ولی، شاہ فیصل، حاجی شیرین، حاجی بسم اللہ، حاجی براکت، پی ٹی آئی کے عابد خان، مولانا سید کبیر، صدیق چراغ، ملک محمد حسین، مسلم لیگ کے صدر حاجی اصغر، مولانا مستقیم، مجیب الرحمان،حاجی شاہ فیصل ،ملک ظفر خان ،ملک عطااللہ ،ڈاکٹر شیر شاہ آفریدی سمیت درجن بھر دیگر سیاسی، قومی اور علاقائی مشران و عمائدین نے بھی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سیاسی اتحاد باڑہ نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر فوری اور عملی عملدرآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی و وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے