امجد ہادی یوسفزئی

حفظانِ صحت سے مراد وہ بنیادی اصول اور سہولیات ہیں جن کے ذریعے انسان بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ صاف پانی کا استعمال، ہاتھوں کی صفائی، مناسب بیت الخلاء، کچرے کی درست تلفی، ویکسینیشن اور صحت سے متعلق بنیادی آگاہی حفظانِ صحت کا حصہ ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں علاج سے زیادہ زور بیماری سے بچاؤ پر دیا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ تصور اب بھی پوری طرح رائج نہیں ہو سکا۔

اگر خیبرپختونخوا کی بات کی جائے تو یہاں حفظانِ صحت کی صورتحال تشویشناک ہے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی صاف پینے کے پانی کی کمی ہے، نالیاں کھلی ہیں، کچرا مناسب طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جاتا اور بیت الخلاء کی سہولت ہر گھر میں موجود نہیں۔ شہروں میں بھی صورتحال بہت مختلف نہیں؛ پشاور جیسے بڑے شہر میں بھی آلودہ پانی اور ناقص صفائی بڑے مسائل بن چکے ہیں۔ انہی حالات کی وجہ سے اسہال، ہیضہ، ٹائیفائیڈ، جلدی امراض اور دیگر بیماریاں عام ہیں۔

حکومت خیبرپختونخوا نے صحت کے شعبے میں کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں۔ بنیادی صحت مراکز ، ویکسینیشن مہمات، اور پولیو کے خاتمے کے لیے خصوصی پروگرام اس کی مثال ہیں۔ کچھ علاقوں میں صاف پانی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے، مگر مجموعی طور پر عملدرآمد کمزور رہا۔ کئی صحت مراکز میں عملہ پورا نہیں، ادویات کی کمی ہے اور نگرانی کا نظام مؤثر نہیں۔ پالیسی بنتی ہے، مگر اس کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتا۔

عوام میں آگاہی کی کمی اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بہت سے لوگ آج بھی یہ نہیں جانتے کہ گندا پانی کس طرح بیماری پھیلاتا ہے یا ہاتھ دھونا کس قدر ضروری ہے۔ ویکسین کے حوالے سے غلط فہمیاں بھی عام ہیں، جن کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگواتے۔ تعلیم کی کمی، غربت، اور سماجی و ثقافتی رویے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

مختلف سرویز اور رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ایک بڑی تعداد کو صاف پانی اور مناسب صفائی کی سہولت حاصل نہیں۔ بچوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد مکمل ویکسینیشن سے محروم ہے، جس کا نتیجہ پولیو اور خسرہ جیسی بیماریوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات اور شعور کا بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ سب سے پہلے حکومت کو کاغذی منصوبوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ صحت مراکز کی سخت نگرانی ہونی چاہیے تاکہ ڈاکٹر اور عملہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات کو سنجیدگی سے چلانا ہوگا—اسکولوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ صفائی اور ویکسین ان کی اپنی اور ان کے بچوں کی زندگی بچا سکتی ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حفظانِ صحت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کا فرض ہے۔ جب تک ہم خود صفائی کو اہمیت نہیں دیں گے، صرف شکایات سے حالات نہیں بدلیں گے۔ خیبرپختونخوا کو صحت مند صوبہ بنانے کے لیے حکومت اور عوام، دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ خاموش بحران یونہی ہمارے بچوں کا مستقبل نگلتا رہے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے