پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کی تقاریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی گفتگو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کچھ افراد کو صرف عمران خان، سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کے لیے آگے لایا گیا ہے، اور وہ تقریر کے بعد جواب دہی سے بچنے کے لیے ایوان سے نکل جاتے ہیں۔
شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایات پر وہ مینا خان اور عبدالغنی کے ہمراہ وادیٔ تیراہ پہنچے، جہاں انہوں نے پوری رات سڑک پر گزار کر متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا۔ ان کے مطابق یہ حکومت محض بیانات پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں طلال چوہدری اور خواجہ آصف کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بیٹھ کر خیبرپختونخوا کے معاملات پر فیصلے کرنے کا اختیار نہ طلال چوہدری کو حاصل ہے اور نہ ہی خواجہ آصف کو۔ خیبرپختونخوا کے فیصلے یہاں کے عوام اور منتخب قیادت ہی کرے گی۔
معاون خصوصی نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی یہ جماعتیں اقتدار میں آئیں، پختون دشمن پالیسیاں لے کر آئیں۔ 1999 میں خیبرپختونخوا کو آٹے سے محروم کیا گیا، بعد ازاں بجلی بند کی گئی، اور آج ایک بار پھر آپریشن کی باتیں کر کے عوام کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آخر میں شفیع جان نے کہا کہ اپوزیشن اپنے بیانیے سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر حکومت انہیں ہر فورم پر جواب دے گی اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے