ٹانک (بیورو رپورٹ)
خیبر پختونخوا میں محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی متضاد پالیسیوں نے اساتذہ کی سینیارٹی کے معاملے کو ایک سنگین تنازع کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث صوبے بھر کے تعلیمی حلقوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اساتذہ تنظیموں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو تعلیم کے ساتھ کھلواڑ قرار دیتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2014 سے 2018 کے دوران بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے ایک ایسا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت ان کی سینیارٹی تعیناتی کے دن سے شمار نہیں کی جاتی، جبکہ اس کے برعکس 2018 کے بعد بھرتی ہونے والے اسی کیڈر کے اساتذہ کی سینیارٹی تعیناتی کے پہلے دن سے ہی شمار کی جا رہی ہے۔ اس دوہرے معیار کی بنیاد پر پہلے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو بعد میں بھرتی ہونے والوں سے جونیئر قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی ایکٹ کی بنیاد پر ترقیوں کا پورا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایک ہی کیڈر، ایک ہی نوعیت کی ذمہ داریوں اور یکساں تقرری کے باوجود سینیارٹی کے دو الگ الگ اصول لاگو کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں جونیئر اساتذہ کو سینیئر اساتذہ پر فوقیت دے کر ترقی دی جائے گی، جو نہ صرف میرٹ کے خلاف ہے بلکہ اساتذہ کے ساتھ صریح ناانصافی بھی ہے۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تعلیم میں اصلاحات کے دعوے تو کرتی ہے، تاہم عملی اقدامات اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ حلقوں کے مطابق اگر حکومت واقعی تعلیم کی بہتری میں سنجیدہ ہوتی تو دو متضاد قوانین میں موجود واضح خامیوں کو دور کر کے اساتذہ کے لیے یکساں اور منصفانہ سینیارٹی پالیسی متعارف کرواتی۔
اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا سے رکنِ صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی میں باقاعدہ قرارداد جمع کرا دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اساتذہ کی سینیارٹی سے متعلق اس ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے اور تمام اساتذہ کے لیے مساوی اصولوں پر مبنی پالیسی نافذ کی جائے۔
دوسری جانب سماجی اور تعلیمی حلقوں نے حکومت کی اس پالیسی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی تعلیمی مسائل کا شکار ہے، ایسے میں اساتذہ کو آپس میں تقسیم کرنے والی پالیسیاں نظامِ تعلیم کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ، وزیرِ تعلیم، سیکرٹری ایجوکیشن، ڈائریکٹر ایجوکیشن اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، متضاد قوانین ختم کرنے اور اساتذہ کے تحفظات دور کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے