
باڑہ (نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی)
وادی تیراہ میں شدید برفباری کے باعث معمولاتِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک اور بنیادی ضروریات کی قلت نے ایک سنگین انسانی بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شدید سردی اور راستوں کی بندش کے دوران ایک کمسن بچی جاں بحق ہو گئی، جس کی نعش باڑہ منتقل کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وادی تیراہ کے متعدد گاؤں اور دیہات، جن میں برقمبرخیل، دوربی خیل کلے، حیدر کنڈاو، آدم خیل، زنگی کلے، کمرخیل کے علاقے تختکئی اور آرہنگہ شامل ہیں، بدستور برف تلے دبے ہوئے ہیں۔ خراب موسمی صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جبکہ نقل مکانی سے رہ جانے والے قبائل شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ 30 انچ سے زائد برفباری کے باعث عوام گھروں میں محصور ہیں اور مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر بند رہیں۔ نقل مکانی کے سبب مقامی بازار اور دکانیں بند پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر بروقت امداد نہ پہنچی تو جانی نقصان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ضلع انتظامیہ کے مطابق فوڈ آئٹمز، نان فوڈ آئٹمز اور ادویات پر مشتمل متعدد گاڑیوں کا قافلہ وادی تیراہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محصور آبادی کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ادھر سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو 1122 کی جانب سے بند راستوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ آخری اطلاعات تک برف سے بند کئی سڑکیں کلیئر کر دی گئی ہیں اور ٹریفک کی جزوی روانی بحال ہو گئی ہے، تاہم تند پہاڑی چھڑائی کے مقام پر متاثرین کی گاڑیوں کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تند پہاڑی چھڑائی سمیت حساس مقامات پر ترجیحی بنیادوں پر برف ہٹانے اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
![]()