خیال مت شاہ آفریدی سے
وادئ تیراہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور متاثرین کی نقل مکانی کے پیش نظر باڑہ میں ایک نمائندہ جرگہ منعقد ہوا جس کی سربراہی سابق وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی نے کی۔ جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں، قومی مشران اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ قومی جرگہ آفریدی اقوام واضح کرتا ہے کہ تیراہ میں جاری آپریشن کی ذمہ داری صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ جرگے نے مطالبہ کیا کہ تیراہ کے تمام متاثرین کی مکمل اور شفاف رجسٹریشن کی جائے، آفریدی اقوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کا فوری خاتمہ کیا جائے اور مزید نقل مکانی روکی جائے۔ جرگے کے مطابق ہر متاثرہ خاندان کی باقاعدہ رجسٹریشن یقینی بنائی جائے اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کی جائے۔
جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم اپریل سے متاثرینِ تیراہ کی واپسی کے وعدے پر من و عن عمل کیا جائے، آپریشن کے دوران ہونے والے مالی و جانی نقصانات کا منصفانہ معاوضہ ادا کیا جائے اور آفریدی اقوام کی نمائندگی پر مشتمل ایک مشترکہ قومی کمیٹی تشکیل دی جائے جو آئندہ کے لائحہ عمل کو باہمی مشاورت سے طے کرے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ تیراہ اور باڑہ دونوں کو متاثرہ علاقے قرار دیا جائے، عوامی زمینوں پر جبری قبضے بند کیے جائیں، بند راستے فوری طور پر کھولے جائیں اور خوراک و ضروری اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
جرگہ ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں تمام آفریدی اقوام سے دس دس نمائندے لے کر آٹھ فروری کو ایک بڑا اور اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں عملی اقدامات کے لیے واضح حکمت عملی طے کی جائے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے