
باڑہ (نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی)
وادی تیراہ سے متاثرین (آئی ڈی پیز) کے انخلاء کا دوسرا ہفتہ جاری ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کے ناقص انتظامات کے باعث متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔ اعلان کے باوجود رجسٹریشن سنٹرز تاحال مکمل طور پر فعال نہ ہو سکے، جس کے باعث متاثرین شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وادی تیراہ اور باڑہ کے مختلف انٹری پوائنٹس پر متاثرین نے اپنے مطالبات کے حق میں سڑکیں بند کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا، جس سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ انخلاء کا عمل جاری ہے، تاہم سہولیات کی عدم فراہمی نے متاثرین کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔
متاثرین کو سب سے زیادہ مسائل کرایہ کی مد میں دی جانے والی رقوم کی عدم ادائیگی کے باعث درپیش ہیں۔ باڑہ کے علاقے شاہ حجرہ میں قائم کیش وصولی کیمپ میں کرایہ ٹوکن کے باوجود رقم نہ ملنے پر مشتعل متاثرین نے وادی تیراہ جانے والی سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کیمپ کا عملہ نئے اور پرانے ٹوکنز کا بہانہ بنا کر متاثرین کو ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ متاثرین کے نام پر سرگرم نوسرباز گروہ جعلی ٹوکنز کے ذریعے تین سے چار مرتبہ رقوم وصول کر چکے ہیں، جسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی ٹوکن بنانے والے گروہ کو گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش بھی کر دیا ہے۔
اسی طرح پائندی چینہ رجسٹریشن پوائنٹ پر قبیلہ ذخہ خیل نے اپنی رجسٹریشن نہ ہونے کے خلاف سڑک پر دھرنا دے دیا، جس کے باعث ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی اور وادی تیراہ آنے والے متاثرہ خاندان طویل انتظار پر مجبور ہو گئے۔ ایک طرف متاثرین اپنے گھر بار چھوڑنے کے کرب سے گزر رہے ہیں اور دوسری جانب آئے روز سڑکوں کی بندش ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
اس موقع پر ایم پی اے اور ڈیڈک چیئرمین نے باڑہ کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ بعض افراد کی لالچ کے باعث کیش پوائنٹس پر غیر ضروری رش بڑھ رہا ہے، جس سے وادی تیراہ کے اصل متاثرین کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رجسٹریشن اور امداد کا پہلا حق وادی تیراہ کے متاثرین کا ہے اور اس حق کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
![]()