
پشاور: جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن کی مکمل مخالفت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس آپریشن پر اپنا واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے لائے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ ایک طرف میڈیا پر آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری جانب کابینہ اجلاس میں اسی آپریشن کے لیے فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں، جو ایک واضح تضاد اور دوغلی پالیسی کا ثبوت ہے۔
یہ بات انہوں نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق رکن قومی اسمبلی صابر حسین، ضلع خیبر کے امیر شاہ فیصل آفریدی اور جماعت اسلامی ضلع خیبر کے رہنما خان ولی آفریدی بھی موجود تھے۔
عبدالواسع نے کہا کہ ضلع خیبر میں اس سے قبل بھی مختلف ناموں سے کئی آپریشن کیے گئے، تاہم ان کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات، نقل مکانی، انفراسٹرکچر کی تباہی اور طویل المدتی بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں ایک بار پھر عوام نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اور دو ماہ کے محدود وقت کے اعلان کے باوجود عوام شدید بے یقینی اور خوف کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو خدشہ ہے کہ ان کے گھر، جو برسوں کی محنت سے بنائے گئے، ایک بار پھر تباہ ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ اور کابینہ کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ عبدالواسع نے وزیراعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ لاہور کی گلی کوچوں میں گھومنے کے بجائے خیبر پختونخوا آ کر صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 12 نومبر کو منعقد ہونے والے خیبر پختونخوا امن جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں جو نکات طے کیے گئے تھے، ان پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور جرگے کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ اسی طرح 14 نومبر کے کابینہ اجلاس میں تیراہ کے عوام کے لیے امدادی پیکج اور صوبائی فنڈ کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اس آپریشن کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔
عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ ماضی میں ہونے والے تمام آپریشنز کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹس عوام کے سامنے لائی جائیں اور یہ بتایا جائے کہ ان آپریشنز سے اب تک کتنا امن قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، مگر اس کے باوجود آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے، جس سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ قومی اور صوبائی سطح پر پولیس کو فعال بنایا جائے، جس پر اب تک حکومت نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو باہمی مشاورت سے دیرپا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ طورخم، غلام خان اور دیگر سرحدی راستوں کی بندش سے نہ صرف عوام بلکہ خیبر پختونخوا کی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان میں موجود پاکستانی طلبہ، خصوصاً میڈیکل اور انجینئرنگ کے طالب علم، شدید مشکلات سے دوچار ہیں جن کے تحفظ اور سہولت کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
ایک سوال کے جواب میں شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگ نقل مکانی کر کے اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ ڈرون حملوں اور مارٹر گولوں کے باعث اب تک 60 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگرچہ دو ماہ کا وقت دیا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر جماعت اسلامی خیبر کے رہنما خان ولی آفریدی نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا واقعی آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں تو تیراہ کے عوام ان کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ بدامنی پھیلانے والے عناصر کون ہیں، اس لیے عام عوام کو نشانہ بنانے کے بجائے ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جائیں۔
![]()