
نو تعینات ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل زاہد اللہ آفریدی نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر کا دورہ کیا. اس موقع پر ان کے ہمراہ ایڈیشنل ایس ایچ اوز ملک زینت خان، سعید آفریدی سمیت دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے.
ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایچ او زاہد اللہ آفریدی نے واضح کیا کہ لنڈی کوتل ایک پُرامن علاقہ ہے اور یہاں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ سود کا کاروبار نہ صرف غیر قانونی بلکہ حرام ہے اور ڈی پی او خیبر اور سی سی پی او پشاور کے احکامات کی روشنی میں سودی کاروبار کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اس ضمن میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا.انہوں نے ہوائی فائرنگ کو سنگین قانونی جرم قرار دیتے ہوئے عوام سے سختی سے گریز کی اپیل کی اور کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی. ایس ایچ او نے بارگین کے نام پر جاری غیر قانونی سودی دھندے کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا.
زاہد اللہ آفریدی نے آن لائن گیمز کے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں اور معاشرے میں آپسی دشمنیوں کو جنم دیتی ہیں، لہٰذا اس حوالے سے بھی کڑی نظر رکھی جائے گی. منشیات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور فروشی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی. آخر میں انہوں نے صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے قانون کی عملداری، امن و امان اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے پولیس اور میڈیا کے باہمی تعاون پر زور دیا.
![]()