اسلام آباد:
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سال 2025 پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ اسلام آباد میں ایک تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس بریفنگ کا واحد مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لینا ہے، کیونکہ دہشت گردی اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی اور ریاست و عوام دونوں کو دہشت گردی کے بارے میں مکمل وضاحت حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ یہ عناصر نہ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان یا بلوچستان کے عوام سے۔ انہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج جبکہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندوستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق 2025 میں عالمی برادری نے بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا، خاص طور پر اس حقیقت کو کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سال نیشنل ایکشن پلان (NAP) کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس کی بنیاد پر 2024 میں شروع ہونے والا آپریشن عزمِ استحکام تشکیل دیا گیا، اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے، اگرچہ عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 میں ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً 206 کارروائیاں۔ ان میں سے 14,658 خیبرپختونخوا، 58,778 بلوچستان جبکہ دیگر علاقوں میں 1,739 آپریشنز ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں مجموعی طور پر 5,397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 71 فیصد خیبرپختونخوا اور 29 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ اسی دوران 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ 1,235 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2025 میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں دو حملے خواتین خودکش بمباروں نے کیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بڑی وجہ وہاں دہشت گردوں کو فراہم کیا جانے والا سیاسی تحفظ اور سیاسی-دہشت گرد گٹھ جوڑ ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 2021 میں افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں اور دوحہ معاہدے کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا، کیونکہ افغان طالبان اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن گیا۔ ان کے مطابق بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مالی و لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار ہیں، اور یہ جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی بقا کی جنگ ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن سال ثابت ہوا: ڈی جی آئی ایس پی آراسلام آباد:انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سال 2025 پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔ اسلام آباد میں ایک تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس بریفنگ کا واحد مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لینا ہے، کیونکہ دہشت گردی اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیر معمولی شدت دیکھنے میں آئی اور ریاست و عوام دونوں کو دہشت گردی کے بارے میں مکمل وضاحت حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ریاست پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ یہ عناصر نہ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان یا بلوچستان کے عوام سے۔ انہوں نے کالعدم ٹی ٹی پی کو فتنہ الخوارج جبکہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو فتنہ الہندوستان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق 2025 میں عالمی برادری نے بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا، خاص طور پر اس حقیقت کو کہ افغانستان دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سال نیشنل ایکشن پلان (NAP) کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس کی بنیاد پر 2024 میں شروع ہونے والا آپریشن عزمِ استحکام تشکیل دیا گیا، اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود ہے، اگرچہ عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2025 میں ملک بھر میں 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً 206 کارروائیاں۔ ان میں سے 14,658 خیبرپختونخوا، 58,778 بلوچستان جبکہ دیگر علاقوں میں 1,739 آپریشنز ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں مجموعی طور پر 5,397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 71 فیصد خیبرپختونخوا اور 29 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ اسی دوران 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ 1,235 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2025 میں 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں دو حملے خواتین خودکش بمباروں نے کیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی بڑی وجہ وہاں دہشت گردوں کو فراہم کیا جانے والا سیاسی تحفظ اور سیاسی-دہشت گرد گٹھ جوڑ ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ 2021 میں افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں اور دوحہ معاہدے کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا، کیونکہ افغان طالبان اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے اور افغانستان دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن گیا۔ ان کے مطابق بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مالی و لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار ہیں، اور یہ جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی بقا کی جنگ ہے۔
![]()