
کیپیٹل سٹی پولیس پشاور کی جانب سے مبینہ طور پر قبضہ گروپوں پر مشتمل ایک تفصیلی فہرست منظرِ عام پر آنے کے بعد شہر بھر میں شدید بحث اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فہرست میں 140 سے زائد ایسے افراد اور گروہوں کے نام شامل ہیں جن پر قتل، بھتہ خوری اور قیمتی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل بعض افراد بظاہر بااثر، معزز اور سماجی حیثیت رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں، جس نے شہریوں کو مزید حیرت میں ڈال دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ فہرست حالیہ نہیں بلکہ کافی عرصہ قبل مرتب کی گئی تھی، جس پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ اگر یہ نام پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں تھے تو ان کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کیوں عمل میں نہ لائی جا سکی۔
فہرست میں مبینہ طور پر بعض سیاسی شخصیات، مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر کے نام بھی شامل بتائے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں متعدد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہی عناصر شہر کے امن و امان کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔
عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ پولیس کی مبینہ سرپرستی کے بغیر قبضہ گروپ اس قدر طاقتور نہیں ہو سکتے، تاہم اس حوالے سے تاحال پولیس حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ دوسری جانب فہرست کے منظرِ عام پر آنے کے بعد آراء منقسم دکھائی دیتی ہیں، بعض افراد کا کہنا ہے کہ کچھ نام غلطی سے شامل ہوئے، جبکہ عوام کی اکثریت بلا امتیاز کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایسی فہرستوں کو فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور شفاف اقدامات کیے جائیں، تاکہ پشاور کو قبضہ مافیا سے پاک کیا جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
![]()