خیبر پختونخوا میں کل 15 دسمبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کو افغان مہاجرین کی حالیہ انخلاء اور وطن واپسی کے باعث ایک سنگین چیلنج درپیش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ انخلاء، نقل مکانی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث افغان مہاجرین کے سینکڑوں بچے پولیو کے قطرے پلائے جانے سے محروم رہ سکتے ہیں۔محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کے کیمپوں اور ان کے زیرِ رہائش علاقوں میں موجود بچوں کی تفصیلی فہرست اور اعداد و شمار پہلے ہی محکمہ صحت کے پاس موجود ہیں، تاہم موجودہ حالات میں ان بچوں تک رسائی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مہاجرین کی واپسی کا عمل تاخیر کا شکار ہوتا ہے یا غیر منظم انداز میں آگے بڑھتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ کئی افغان خاندان پولیو ویکسین پلانے سے انکار کر دیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ پولیو مہمات میں بھی نقل مکانی، عارضی رہائش اور عدم اعتماد کے باعث انکاری کیسز سامنے آتے رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال اس حوالے سے کہیں زیادہ حساس بتائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر وہ افغان مہاجرین جو اس وقت شدید دباؤ، سرد موسم اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، بچوں کی صحت کے معاملات کو ثانوی حیثیت دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے ایک افغان شہری سے جب پولیو مہم کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ“جس حالت میں ہمیں رکھا گیا ہے، اس افراتفری میں ہم بچوں کو کون سے قطرے پلائیں؟ جب دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور سردی میں زبردستی واپس بھیجا جا رہا ہے تو ہمیں کسی مہم یا قطروں کی ضرورت نہیں۔”اس ردعمل کو باوثوق ذرائع انکاری رویے میں ممکنہ اضافے کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔محکمہ صحت کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پولیو مہم کے دوران نقل مکانی کرتی رہی تو نہ صرف ٹارگٹ آبادی متاثر ہوگی بلکہ پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس کے باوجود تاحال افغان مہاجرین کی واپسی اور پولیو مہم کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کسی واضح حکمتِ عملی یا خصوصی اقدامات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔باوثوق ذرائع کے مطابق موجودہ حالات میں پولیو مہم کے دوران انکاری والدین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف صوبے بلکہ ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی کوششوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ حکام کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اگر فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں پولیو مہم کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے