تحریر: سردار یوسفزئی
نائب صدر، پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد

خیبر پختونخوا کی تعلیمی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، دیانت، فرض شناسی اور علمی خدمات کے باعث پہچانی جاتی ہیں۔ انہی درخشاں ناموں میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام الحاج اولیاء خان صاحب کا بھی ہے، جو ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں پنج پیر سے تعلق رکھتے تھے اور تعلیمی بورڈ پشاور کے سابق کنٹرولر امتحانات رہے۔
الحاج اولیاء خان صاحب طویل عرصے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔ حالیہ دنوں میں طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیرِ علاج رہے۔ بالآخر جمعہ المبارک کی بابرکت رات وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اگلے روز جمعہ، 16 جنوری 2026 کو دن گیارہ بجے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں آبائی گاؤں پنج پیر، ضلع صوابی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ان کی نمازِ جنازہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ مرحوم ایک ہمہ گیر، باوقار اور سب کے لیے قابلِ احترام شخصیت تھے۔ عوامی، تعلیمی اور سماجی حلقوں کی بھرپور موجودگی نے یہ حقیقت اجاگر کی کہ الحاج اولیاء خان صاحب نے اپنی پوری زندگی خدمت، دیانت اور اخلاقِ حسنہ کے ساتھ گزاری۔
ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ تعلیمی حلقوں، شاگردوں اور چاہنے والوں کو گہرے رنج و الم میں مبتلا کر دیا۔ دورانِ سروس وہ محض ایک سرکاری افسر نہیں تھے بلکہ علم دوستی، دیانت اور فرض شناسی کی عملی تصویر سمجھے جاتے تھے۔ ان کی زندگی تعلیم کے فروغ، معیار، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کی پاسداری کے لیے وقف رہی۔ نرم گفتاری، انکسار اور درویشانہ مزاج ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جس کے باعث ہر طبقہ فکر میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
1942 میں ضلع صوابی کے تاریخی گاؤں پنج پیر میں عباس خان بابا کے گھر آنکھ کھولنے والے الحاج اولیاء خان صاحب نے سادگی، محنت اور اصول پسندی کو ہمیشہ زندگی کا شعار بنایا۔ 1962 میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے محکمہ تعلیم میں شمولیت اختیار کی اور اپنی غیر معمولی ذہانت، پیشہ ورانہ اہلیت اور ایمانداری کے باعث تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں۔
اپنے عملی کیریئر کے دوران وہ تعلیمی نظم و ضبط، شفاف امتحانی نظام اور ادارہ جاتی وقار کے مضبوط علمبردار رہے۔ پشاور بورڈ جیسے اہم ادارے میں کنٹرولر امتحانات کی حیثیت سے ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان کا شمار خیبر پختونخوا کے ان چند تعلیمی افسران میں ہوتا تھا جن پر نہ صرف اعتماد کیا جاتا تھا بلکہ مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا تھا۔
2002 میں سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کے اصول، خدمات اور کردار آج بھی زندہ ہیں۔ وہ ایک قابل افسر ہونے کے ساتھ ساتھ خاکسار، درویش صفت اور اعلیٰ اخلاق کے حامل انسان تھے۔ اختیار اور شہرت کے باوجود انکساری ان کی شخصیت کا نمایاں وصف رہی۔
مرحوم ایک مثالی باپ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت علم، اخلاق اور خدمت کے اصولوں پر کی۔ ان کے صاحبزادگان محمد جاوید انور راہی، محمد طفیل خان، محمد ابراہیم خان، محمد ہارون خان، محمد عارف خان، محمد اصف خان اور محمد ادریس خان اپنے اپنے شعبوں میں محنت، صلاحیت اور اچھے کردار کی بنیاد پر معتبر حیثیت رکھتے ہیں، جو مرحوم کی بہترین تربیت کا واضح ثبوت ہے۔
الحاج اولیاء خان صاحب (خان جی) نے اپنی قابلیت، اصول پسندی اور اعلیٰ کردار سے نہ صرف اپنے ادارے بلکہ بالخصوص ضلع صوابی کا نام روشن کیا۔ ایسے لوگ کم ہی پیدا ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کر کے تاریخ میں اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے