
روشن خیال حلقے مسلسل یہ مؤقف دہراتے آ رہے ہیں کہ افغان حکومت نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا کر ان کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے، مگر اگر اس معاملے کو محض جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ اور زمینی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بیانیہ یک رخا محسوس ہوتا ہے۔ افغان حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ وہ فی الحال اپنی بیٹیوں کو ایسے تعلیمی ماحول سے بچانا چاہتی ہے جہاں عزت، حیا اور اخلاقی وقار محفوظ نہیں۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، بلکہ علم کا حصول فرض قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اسلام تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی حدود کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔ مسئلہ تعلیم کا نہیں بلکہ اس تعلیمی نظام کا ہے جو علم کے بجائے فکری انتشار اور اخلاقی بگاڑ کو فروغ دے رہا ہے۔
بدقسمتی سے آج تعلیم کے نام پر ایسے رجحانات کو ترقی اور آزادی کا عنوان دیا جا رہا ہے جو اسلامی اقدار اور مشرقی معاشرتی وقار سے متصادم ہیں۔ مخلوط ماحول، غیر سنجیدہ سرگرمیاں اور حدود سے ماورا طرزِ عمل کو جدیدیت کہہ کر قبول کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے اثرات ہمارے معاشرے میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
افغان حکومت کا مؤقف یہی ہے کہ جب تک ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل نہیں دیا جاتا جو اسلامی اقدار، حیا اور سماجی وقار سے ہم آہنگ ہو، اس وقت تک ایسے ماحول سے اجتناب ضروری ہے۔ اس فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر نیت کو مکمل طور پر منفی قرار دینا فکری دیانت کے خلاف ہے۔
اسی تناظر میں بعض حلقے پشتون معاشرے پر یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ وہ خواتین کے بعض معاملات پر تو سخت مؤقف اپناتے ہیں، مگر دہشت گردی کے نام پر ہونے والے قتلِ عام پر کیوں نہیں بولتے۔ یہ الزام نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ پشتون عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیوں سے لاعلمی کا عکاس بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ باشعور پشتون ہمیشہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے گناہوں کے قتل کے خلاف کھڑے رہے ہیں۔ چاہے یہ جرائم کسی بھی نام یا نظریے کے تحت کیے گئے ہوں، پشتون معاشرے نے ہمیشہ انہیں اسلام، انسانیت اور اپنی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔
اسلام میں قتل بھی حرام ہے اور فحاشی و بے حیائی بھی۔ دونوں ہی ناقابلِ قبول جرائم ہیں۔ کسی ایک برائی کو دوسری برائی کے مقابلے میں کم نقصان دہ قرار دینا نہ دینی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی معاشرتی فہم سے۔
خیبر پختونخوا کے حالات پر نظر ڈالیں تو وادی تیراہ کی صورتحال ایک سنگین المیے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور عسکری کشیدگی کی زد میں ہے، جہاں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
تیراہ کے عوام نے نقل مکانی، جانی و مالی نقصانات اور مسلسل عدم تحفظ جیسی اذیت ناک کیفیات کا سامنا کیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس صورتحال پر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی واضح اور مؤثر حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث عوام خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
اسی دوران پشاور یونیورسٹی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ معاشرتی تضاد کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کی ویلکم پارٹی میں ہونے والی سرگرمیاں، جو مبینہ طور پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی انتظامی نگرانی میں منعقد ہوئیں، شدید تشویش کا باعث بنیں۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا پختون معاشرے اور پشاور یونیورسٹی میں یہی تربیت دی جاتی ہے کہ طالبات کو نازیبا لباس میں لڑکوں اور عملے کے سامنے اس نوعیت کی حرکات کی اجازت دی جائے؟ یہ معاملہ محض ایک تقریب کا نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی سمت کے تعین کا ہے۔
پشاور کے غیور پشتونوں اور اہلِ دانش کو اس پر آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ یہ طرزِ عمل ہماری اعلیٰ تہذیبی اقدار اور معاشرتی ڈھانچے میں بگاڑ کی ایک تشویشناک ابتدا ہے۔ نہ دینِ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ہمارا روایتی اور قبائلی کلچر ایسے طرزِ عمل کو قبول کرتا ہے۔
یہاں سوال تفریح یا خوشی منانے کا نہیں، بلکہ حدود اور ذمہ داری کا ہے۔ تعلیمی ادارے قوم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے مراکز ہوتے ہیں، نہ کہ ایسی سرگرمیوں کے مظاہر گاہ جو معاشرتی حساسیت کو مجروح کریں۔
یہی وہ فکری زوال ہے جس کی نشاندہی برسوں پہلے بعض صاحبِ بصیرت شخصیات کر چکی تھیں۔ انہی میں ایک نام مولانا بجلی گھرؒ کا بھی شامل ہے، جو ایک فرشتہ صفت، سادہ مزاج اور گہری سماجی بصیرت رکھنے والے انسان تھے۔
مولانا بجلی گھرؒ نے کئی برس قبل یہ تنبیہ کی تھی کہ اگر پشتون معاشرہ اپنی دینی، اخلاقی اور ثقافتی بنیادوں سے غفلت برتے گا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات نئی نسل کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل میں نمایاں ہو جائیں گے۔ آج کے حالات اس انتباہ کی عملی تصویر دکھائی دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کی ہے، قربانیاں دی ہیں، ظلم برداشت کیا ہے، مگر کبھی خاموش نہیں رہے۔ وہ آج بھی امن، تحفظ اور استحکام کے خواہاں ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر نہیں آتی۔ عوامی خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اکثر نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو عدم اعتماد کو مزید بڑھا رہا ہے۔
عوام کسی انتشار یا تصادم کے خواہاں نہیں۔ وہ صرف امن چاہتے ہیں، تحفظ چاہتے ہیں اور ایسی قیادت چاہتے ہیں جو حق کے ساتھ کھڑی ہو اور مشکل وقت میں عوام کا سہارا بنے۔
خواتین کی تعلیم، تیراہ کی بدامنی اور تعلیمی اداروں میں اخلاقی حدود، یہ سب الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی فکری بحران کے مختلف پہلو ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی توازن، ذمہ داری اور اخلاقی شعور کا راستہ اختیار نہ کیا تو اس کے نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گے۔
![]()