
امجد ہادی یوسفزئی
پشاور یونیورسٹی میں طالبات کی مبینہ ماڈلنگ کی وائرل ویڈیوز محض ایک تعلیمی ادارے کی تقریب کا معاملہ نہیں رہیں، بلکہ یہ واقعہ ہمارے معاشرے، ریاستی دعوؤں اور عملی حقیقت کے درمیان گہرے تضاد کو بے نقاب کر گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب حکمران طبقہ بار بار ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے نعرے کو اپنی سیاسی و اخلاقی شناخت کے طور پر پیش کرتا ہے، اسی ریاست کے تعلیمی اداروں میں ہونے والے واقعات عوام کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ اصل مسئلہ نعروں میں ہے یا نیت اور عمل میں؟
جامعہ پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی ویلکم پارٹی کے دوران پیش آنے والے واقعے پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی کا قیام بظاہر ایک ذمہ دارانہ اقدام لگتا ہے، مگر ماضی کے تجربات یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا یہ کمیٹی واقعی حقائق سامنے لانے اور اصلاح کا ذریعہ بنے گی یا محض وقتی دباؤ کم کرنے کا ایک رسمی حربہ ثابت ہوگی؟ ہماری جامعات میں اس نوعیت کی انکوائریاں اکثر چند دنوں میں میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور پھر فائلوں کی نذر ہو کر رہ جاتی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ویڈیو میں ماڈلنگ ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ویلکم پارٹیوں کا مقصد کیا رہ گیا ہے؟ کیا یہ تقریبات تعلیم، تہذیب اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہوتی ہیں یا محض سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور بے مقصد تفریح کا ذریعہ بن چکی ہیں؟ اگر جامعات ہی اپنی حدود، اقدار اور ضابطوں کا تعین نہیں کر سکتیں تو پھر معاشرے سے اخلاقی نظم و ضبط کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
اس طرح کے واقعات کے معاشرے پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک طرف نوجوان نسل کو یہ پیغام ملتا ہے کہ حدود و اقدار کی کوئی اہمیت نہیں، دوسری طرف خواتین کو ایک بار پھر تنقید اور کردار کشی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ اصل ذمہ دار اکثر پس منظر میں محفوظ رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جذباتی ردعمل، مذہب اور اخلاقیات کو بطور ہتھیار استعمال کرنا، اور پھر چند دن بعد خاموشی—یہ سب ہماری اجتماعی منافقت کی علامت ہے۔
ریاستِ مدینہ کا تصور محض نعروں، تقریروں اور پوسٹروں سے نافذ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شفاف احتساب، واضح پالیسی، اور دوٹوک عملدرآمد ضروری ہوتا ہے۔ اگر واقعی حکومت اور تعلیمی ادارے سنجیدہ ہیں تو انہیں چاہیے کہ جامعات میں تقریبات کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کیا جائے،
انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سب کو جوابدہ بنایا جائے،
انکوائری رپورٹس کو عوام کے سامنے لایا جائے،
اور سب سے بڑھ کر وقتی مصلحت کے بجائے مستقل اصلاح کو ترجیح دی جائےـ
یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہر خوش آمدیدی تقریب اسی انداز کی ہونی چاہیے؟ کیا ہم اپنی ثقافت، روایات اور تعلیمی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے؟ اگر نہیں، تو پھر مسئلہ کسی ایک یونیورسٹی یا ایک ویڈیو کا نہیں، بلکہ پورے نظامِ اقدار کا ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر باشعور شہری کے ذہن میں گردش کر رہا ہے:
کیا یہ کمیٹی واقعی مثال بنے گی یا چند دن بعد ایک اور فائل بند ہو جائے گی؟
اور کیا ہم کبھی نعروں سے نکل کر حقیقت میں ایک ذمہ دار اور باوقار معاشرہ بننے کا فیصلہ کریں گے؟
یہ فیصلہ صرف حکومت یا یونیورسٹی انتظامیہ نے نہیں، ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔
![]()