
پشاور: خیبر پختون خوا میں اعلیٰ طبی تعلیم کے لیے کسی باقاعدہ میڈیکل یونیورسٹی کی عدم موجودگی نے ہزاروں طلبہ کو دوسرے صوبوں اور بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اسی پس منظر میں خیبر میڈیکل کالج (KMC) کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ ایک مرتبہ پھر شدت سے سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے متعدد اعلانات کے باوجود اس اہم ادارے کو یونیورسٹی کا درجہ نہیں دیا جاسکا، جس کا ذمہ دار مبینہ طور پر مختلف مافیاز کو قرار دیا جارہا ہے۔
یہ مطالبات خیبر میڈیکل کالج کے ال ایمپلائیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سمیع اللہ خان، کلیریکل اسٹاف ایپکا کے جنرل سیکرٹری صاحبزادہ وسیم، طلبہ تنظیموں کے نمائندگان اور باچا خان ویلفیئر سوسائٹی کے ممبر اولیا جان خان نے پشاور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حال ہی میں کے ایم سی کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور ہوئی ہے، جو نہ صرف عوام کے لیے خوش آئند ہے بلکہ کے ایم سی کے سٹاف اور انتظامیہ نے بھی اس پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم مقررین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 سال سے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود عملی اقدامات نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔
سمیع اللہ خان نے کہا کہ کے ایم سی صوبے بھر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن محض سیاسی اعلانات سے عملی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کالج کو یونیورسٹی کا درجہ مل جاتا ہے تو صوبے میں بین الاقوامی معیار کی میڈیکل تعلیم دستیاب ہو سکے گی، جس سے طلبہ کو چین، روس یا دیگر ممالک کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا قیام تحقیقی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا اور جدید میڈیکل اسٹڈیز، جدید لیبارٹریز، ایم فل، پی ایچ ڈی، ایف سی پی ایس، ایم ایس، ایم ڈی اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی ڈگریاں خیبر پختونخوا میں ہی دستیاب ہوسکیں گی۔ اس سے نہ صرف صحت کے نظام کو فائدہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں سے فنڈنگ اور اسکالرشپس کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
صاحبزادہ وسیم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد کو عملی جامہ پہنایا جائے، کیونکہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی میں اگر دوسری شفٹ کی کلاسیں شروع کی جائیں تو صوبے کے بہت سے طلبہ جدید طبی تعلیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے، لیکن بدقسمتی سے اس جانب بھی کوئی عملی توجہ نہیں دی جا رہی۔
اولیا جان خان نے کہا کہ خیبر میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد صوبے کے طلبہ کو میڈیکل تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور غریب گھرانوں کے بچوں پر مالی بوجھ کم ہوگا۔
![]()