یہ دور وہ ہے جہاں لوگ جلدی دولت کمانے کی خواہش میں اپنی سمجھ بوجھ، دین اور تجربے کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ہر طرف ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو شارٹ کٹ کے چکر میں بس یہ دیکھتے ہیں کہ پیسہ کیسے فوراً ہاتھ آئے، چاہے وہ راستہ حلال ہو یا حرام۔ اس دوڑ میں نہ اصول باقی رہتے ہیں، نہ خوفِ خدا، اور نہ ہی دنیا و آخرت کا کوئی احساس۔

پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے ’’ڈبل شاہ‘‘ کی کہانی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایک ایسا فراڈ تھا جس نے تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا لیا۔ بڑے بڑے شہروں سے لے کر دور دراز علاقوں تک اس کا اثر پہنچا، اور لوگوں نے اپنی محنت کی کمائی چند دنوں میں دوگنی ہونے کے چکر میں گنوائی۔ یہ سب کچھ ہماری کمزوری، لالچ اور غیر یقینی خیالات کی وجہ سے ہوا۔

اس کہانی کا اثر ہمارے علاقے بونیر تک بھی آیا۔ وہاں بھی بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ اس دھوکے کا شکار بن گئے۔ وقت گزرتا گیا اور لوگ بھول گئے، لیکن لالچ کا بیج ایک بار دل میں پڑ جائے تو فرصت نہیں ملتی۔ کچھ دن پہلے ایک نئی کہانی سامنے آئی، تقریباً اسی ڈبل شاہ والی کہانی کی نقل۔ ایک مرتبہ پھر لوگوں کو زیادہ منافع کا خواب دکھایا گیا اور ایک مرتبہ پھر بہت سے لوگ اس جال میں پھنستے چلے گئے۔

فیس بک پر اس حوالے سے بحث چھڑ گئی، لوگ پوسٹس شیئر کرنے لگے۔ کچھ لوگ تحقیق کے بغیر دفاع کر رہے تھے، کچھ لوگ آگاہی دے رہے تھے، اور کچھ لوگوں نے جب اپنی رقم کھو دی تو چیخ و پکار شروع کر دی۔ یہ سب ایک ایسا معاشرتی المیہ ہے جو بار بار ہمارے سامنے آتا ہے مگر ہم سبق سیکھتے نہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو دھوکا ہوا، ان میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو پانچ وقت کے نمازی ہیں، جن پر دیانت داری کا گمان کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں نماز پڑھی جاتی رہی، مگر لالچ پر قابو نہ پایا جا سکا۔ لوگ بھول گئے کہ رزق صرف محنت اور حلال طریقے سے ہی ملتا ہے، اور شارٹ کٹ کا راستہ ہمیشہ کسی بڑی گمراہی یا نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ لوگ پھنسے نہیں بلکہ خود اس راستے پر چلے۔ انہیں معلوم تھا کہ اتنا زیادہ منافع دینا کوئی عام بات نہیں، مگر دل نے کہا کہ شاید قسمت کھل جائے۔ اسی جذباتی فیصلے نے انہیں نقصان کے کنارے لا کھڑا کیا۔ حقیقت میں یہ سب لوگ ایک ایسے راستے پر چل پڑے تھے جو صاف طور پر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی تھا۔

قرآن میں واضح حکم ہے: "اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے”(سورۃ البقرہ، آیت 276). اس ایک آیت میں پوری زندگی کی سمت موجود ہے، مگر ہم اس طرف کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ جب کوئی کاروبار یا اسکیم غیر فطری منافع کا وعدہ کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں سود، دھوکا یا فریب ضرور شامل ہے۔

آج کی اس نئی اسکیم نے بھی لوگوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ لوگوں نے اپنی جمع پونجی، اپنی تنخواہیں اور بعض نے تو قرض لے کر بھی سرمایہ لگایا، اس امید پر کہ سب کچھ چند ہفتوں میں دگنا ہو جائے گا۔ مگر نتیجہ وہی نکلا جو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے: رقم ڈوب گئی، وعدے ختم ہوگئے، اور خواب چکنا چور ہو گئے۔

اب جن لوگوں کو نقصان ہوا، وہ سوشل میڈیا پر فریادیں کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم بتا رہے ہیں، کچھ لوگوں کو شرمندگی ہے کہ وہ ایسے جال میں کیوں پھنسے۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ نقصان سے پہلے وہ سب اسی شارٹ کٹ کے خواب کا حصہ تھے جس نے انہیں اندھا کر رکھا تھا۔

مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے کاموں میں اکثر وہ لوگ آگے ہوتے ہیں جو دوسروں کی مذہبی شکل و صورت دیکھ کر ان پر اندھا اعتماد کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں، کچھ خود کو سچا اور دیانت دار ظاہر کرتے ہیں، اور لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ دین داری کا معیار صرف ظاہری شکل نہیں، بلکہ عمل، کردار اور معاملات میں ایمانداری ہے۔

اس طرح کی اسکیمیں صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے علاقے کو متاثر کرتی ہیں۔ رشتے خراب ہوتے ہیں، خاندانوں میں فاصلہ آتا ہے، اور لوگ ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں۔ نقصان صرف مالی نہیں ہوتا، اخلاقی اور معاشرتی نقصان بھی ساتھ آتا ہے۔

یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ آخر کیوں ہم بار بار ایسے دھوکوں کا شکار بن جاتے ہیں؟ ہماری تربیت میں کہیں نہ کہیں کمی رہ گئی ہے۔ ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ پیسہ اہم ہے، مگر یہ نہیں سیکھا کہ پیسے کا طریقہ بھی اہم ہے۔ ہم نے جلدی کمانے کا راستہ سیکھا، مگر محنت اور حلال کی قدر بھلا بیٹھے۔

نبیﷺ نے فرمایا: "سچ بولنے سے انسان نیکی کی طرف رہنمائی پاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے” (ترجمہ)۔ اس ایک حدیث میں پورا معاملہ واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ کا نظام سچائی، محنت اور حلال کے راستے پر ہے، نہ کہ فراڈ اور دھوکے کے پیچھے۔

ہمارے علاقے میں یہ معاملہ اب ایک امتحان بن چکا ہے۔ کچھ لوگ بے حد پریشان ہیں، کچھ اپنی غلطی مان رہے ہیں، اور کچھ اب بھی اس خوش فہمی میں ہیں کہ شاید رقم واپس آ جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نقصان ہو چکا ہے اور اب اس سے سبق لینا ہی واحد راستہ ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو، اپنے بچوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس بارے میں سمجھائیں کہ کوئی بھی کام اگر حد سے زیادہ منافع دے رہا ہو تو اس میں ضرور کوئی شک ہوتا ہے۔ ہر وہ پیشکش جو حقیقت سے دور لگے، وہ دھوکا ہوتی ہے۔ مگر ہم اسے قسمت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ خود اپنی اصلاح کریں۔ مذہب صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ مالی معاملات میں بھی ایمانداری کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ایسے حادثے بار بار ہوتے رہیں گے۔

یہ قوم جب تک حلال پر قناعت نہیں کرتی، اس وقت تک ایسے شارٹ کٹ ہمارے گھروں تک آتے رہیں گے۔ اور لوگ یہی سمجھتے رہیں گے کہ شاید اس بار کوئی راستہ کھل جائے گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا، کبھی نہیں ہوا، اور نہ ہوگا۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ محنت کے بغیر ملنے والا پیسہ ہمیشہ نقصان لاتا ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا بدلہ اسے دنیا یا آخرت میں ضرور ملتا ہے۔

جو نقصان ہو چکا ہے، وہ واپس نہیں آ سکتا۔ مگر آئندہ کے لیے عقل، سمجھ اور ایمان کے ساتھ فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ یہی اس حادثے کا سب سے بڑا سبق ہے۔

آخر میں ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ لالچ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اگر ہم نے اپنے دل سے یہ خواہش نہ نکالی کہ جلدی پیسہ آئے، تو آئندہ بھی ایسے دھوکے ہمیں گھیرا ڈالنے کے لیے تیار رہیں گے۔

اب وقت ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنے رویے درست کریں۔ حلال کمائی کی قدر کریں، اور فریب، دھوکے اور سود جیسے معاملات سے بچیں۔ اگر ہم نے آج یہ فیصلہ کر لیا تو مستقبل بہتر ہوگا، ورنہ نقصان کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

یہ تحریر اسی لیے ہے کہ لوگ ہوش کے ناخن لیں۔ اپنی جمع پونجی کو ایسے ہاتھوں میں نہ دیں جن کی نیت اور راستہ معلوم نہ ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح راستہ دکھائے، ہمارے دلوں سے لالچ نکالے اور ہمیں حلال رزق پر راضی رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے