تیمور عباس

آج کل ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ بازاروں میں نرخ نامے چیک کرنے سے لے کر دکان داروں کو جرمانہ کرنے تک ایسے افراد بھی میدان میں نظر آتے ہیں جن کا اصل کام شاید صرف ویڈیوز بنانا ہوتا ہے۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے اس دور میں کئی یوٹیوبر خود کو عوام کا محافظ اور انصاف کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ضلع انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بازاروں میں نرخ ناموں کی پابندی یقینی بنائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو روکے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ بعض اوقات انتظامیہ اس سلسلے میں اچھی کارکردگی بھی دکھاتی ہے، اچانک چھاپے مارے جاتے ہیں، جرمانے کیے جاتے ہیں اور دکانداروں کو قانون کے مطابق پابند کیا جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی مواقع پر انتظامیہ کی کمزور نگرانی یا سستی کے باعث بازاروں میں من مانے نرخ وصول کیے جاتے ہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسے ماحول میں سہی صحافی بھی میدان میں آ جاتے ہیں۔ وہ کیمرہ اٹھا کر بازاروں میں گھومتے ہیں، دکانداروں سے نرخ پوچھتے ہیں اور ویڈیو بنا کر خود کو عوامی نمائندہ ظاہر کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی ویڈیوز سے انتظامیہ کی توجہ ضرور مبذول ہوتی ہے اور متعلقہ حکام حرکت میں بھی آ جاتے ہیں، جو ایک مثبت پہلو سمجھا جا سکتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یوٹیوبر خود ہی فیصلے سنانے لگتے ہیں، دکانداروں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں، جرمانوں کی بات کرتے ہیں اور خود کو قانون نافذ کرنے والا سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ قانون کے مطابق جرمانہ کرنے اور کارروائی کرنے کا اختیار صرف ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص کیمرہ لے کر خود کو مجسٹریٹ سمجھنے لگے تو پھر نظام میں انتشار پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ضلع انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کو مزید مؤثر انداز میں ادا کرے، بازاروں میں باقاعدگی سے نگرانی ہو اور نرخ ناموں پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ اصلاح اور آگاہی تک محدود رہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے یا خود فیصلے سنانے سے گریز کریں۔
آخرکار ایک متوازن نظام ہی معاشرے کے لیے بہتر ہوتا ہے، جہاں انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور عوام بھی مثبت کردار ادا کریں

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے