
امان علی شینواری
خیبر میں افغانستان میں گزشتہ چھ ماہ سے پھنسے ٹرانزٹ ٹرکوں اور پاکستانی ڈرائیورز کے اہل خانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ طویل تعطل کے باعث نہ صرف ڈرائیورز بلکہ ان کے خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ بعض متاثرہ گھروں میں فاقوں تک نوبت پہنچ چکی ہے۔
خیبر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندانوں نے ایک منظم احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے مطابق درجنوں ٹرانزٹ ٹرک اور ان کے ڈرائیورز افغانستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر رکے ہوئے ہیں اور انہیں واپسی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ یہ صورتحال گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہے، جس کے باعث کاروبار مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے۔
احتجاج میں شریک ایک متاثرہ شہری نے بتایا،
“ہمارے گھر کے واحد کفیل افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں، نہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور نہ ہی ہم تک کوئی مالی مدد پہنچ رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری اقدامات کرے۔”
مظاہرین نے حکومت پاکستان اور افغان حکام دونوں سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈرائیورز اور ٹرکوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانزٹ تجارت دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم معاشی سرگرمی ہے، اور اس کی بندش سے نہ صرف ڈرائیورز بلکہ متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہزاروں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
مقامی سطح پر ٹرانسپورٹ یونین کے ایک نمائندے نے کہا کہ پاک-افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیاں ماضی میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر متاثر ہوتی رہی ہیں، تاہم اس مرتبہ طویل دورانیہ ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ کئی ٹرک مالکان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
تاریخی طور پر پاک-افغان ٹرانزٹ ٹریڈ دونوں ممالک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ طورخم بارڈر کے ذریعے روزانہ بڑی تعداد میں اشیائے ضروریہ اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں سرحدی پابندیوں اور انتظامی مسائل کے باعث یہ سلسلہ شدید متاثر ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات مقامی معیشت، روزگار اور سرحدی علاقوں میں سماجی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
آخر میں مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات کرے، افغان حکام سے رابطہ بڑھائے، اور پھنسے ہوئے شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
![]()