تحریر: روح اللہ جان محمدزئی

کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد علم، شعور اور کردار پر استوار ہوتی ہے، اور ان تینوں عناصر کی تشکیل میں اگر کسی ایک طبقے کا سب سے بنیادی کردار ہے تو وہ اساتذہ ہیں۔ استاد محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک مشن اور ایک ایسی امانت ہے جس کے ذریعے نسلوں کی تعمیر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے، ہر کامیاب قوم کے پیچھے ایسے اساتذہ موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے وقف کر دیں۔

گاؤں محمدزئی کی سرزمین بھی ایک ایسے ہی درخشاں کردار کی گواہ رہی ہے، جناب روح الامین المعروف “امین استاذ”۔ ان کی شخصیت محض ایک استاد کی نہیں بلکہ ایک مربی، رہنما اور ایک شفیق بزرگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی 41 سالہ تدریسی زندگی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر خلوص نیت، مستقل مزاجی اور مقصد کی سچائی ہو تو ایک فرد پورے معاشرے پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

“امین استاذ” نے ہمیشہ تعلیم کو صرف نصابی کتب تک محدود نہیں رکھا۔ ان کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد ایک بہتر انسان کی تشکیل تھا۔ وہ طلبہ کو محض سبق یاد کروانے کے بجائے انہیں سچائی، دیانتداری، محنت، برداشت اور باہمی احترام جیسے اوصاف سے آراستہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب ہوئے بلکہ عملی زندگی میں بھی ایک باوقار اور باکردار شہری کے طور پر سامنے آئے۔

اگر محمدزئی کے موجودہ سماجی اور پیشہ ورانہ منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے افراد کی بڑی تعداد اسی ادارے سے وابستہ رہی ہے جہاں “امین استاذ” نے اپنی خدمات انجام دیں۔ یہ افراد سرکاری اداروں، تدریسی شعبے اور نجی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ان سب کی کامیابیوں میں ایک قدر مشترک ہے، اور وہ ہے ایک ایسے استاد کی رہنمائی جس نے انہیں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھایا۔

“امین استاذ” کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کا اخلاص ہے۔ انہوں نے محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود کبھی اپنے فرض سے پہلو تہی نہیں کی۔ ان کے نزدیک تدریس ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ تھا، جسے انہوں نے ہمیشہ دیانتداری اور محبت کے ساتھ نبھایا۔ وہ اپنے شاگردوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے تھے، ان کی رہنمائی کرتے، حوصلہ دیتے اور جہاں ممکن ہوتا، مالی و اخلاقی مدد بھی فراہم کرتے۔

ان کی شخصیت کا سب سے متاثر کن پہلو ان کا اپنے شاگردوں کے ساتھ مضبوط تعلق تھا۔ وہ کلاس روم کی حدود سے آگے بڑھ کر طلبہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں دلچسپی لیتے اور انہیں بہتر مستقبل کے لیے تیار کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے شاگرد انہیں صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک محسن اور رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ایک استاد کی کامیابی کا اصل پیمانہ اس کے شاگردوں کی کامیابی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو “امین استاذ” ایک نہایت کامیاب استاد ہیں۔ ان کے شاگردوں کی کامیابیاں ان کی محنت، لگن اور خلوص کا واضح ثبوت ہیں۔

ریٹائرمنٹ کو بظاہر ایک اختتام سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک سچے استاد کے لیے یہ محض ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ کیونکہ استاد کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، اس کی تعلیمات، اس کے اصول اور اس کے شاگرد ہمیشہ اس کے علم کے چراغ کو روشن رکھتے ہیں۔ “امین استاذ” کی زندگی بھی اسی حقیقت کی عکاس ہے۔

یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ ہمارے معاشرے میں اساتذہ کی قدر و منزلت کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔ حالانکہ یہی وہ لوگ ہیں جو قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ ایسے میں “امین استاذ” جیسے افراد کی خدمات کو اجاگر کرنا نہ صرف ایک فرد کا اعتراف ہے بلکہ ایک مثبت سماجی رویے کی ترویج بھی ہے۔

“امین استاذ” کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انسان اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو، محنت کو شعار بنائے اور خدمت کو ترجیح دے تو وہ نہ صرف اپنی ذات کو سنوار سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کی 41 سالہ خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایک استاد کا اصل ورثہ اس کی جائیداد یا عہدہ نہیں بلکہ اس کے شاگرد ہوتے ہیں۔ “امین استاذ” نے ایک ایسی نسل تیار کی ہے جو علم، کردار اور خدمت کے اصولوں پر قائم ہے۔ راقم الحروف کو فخر ہے کہ 1989-91 میں نہ صرف آمین استاذ بلکہ دو اور قابل فخر اساتذہ کرام ملک امان اللہ (مرحوم) اور محمد جاوید صاحب کا شاگرد رہا ہوں.
یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے اور یہی ان کا زندہ جاوید سرمایہ۔

کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ
“استاد کا چراغ کبھی نہیں بجھتا”

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے