رپورٹ: محمد فیاض شاداب
پشاور: قومی جرگہ کے چیئرمین خالد ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی پائیدار ترقی کا انحصار صرف انصاف کی فراہمی اور قومی وسائل کے شفاف و درست استعمال پر ہے۔ انہوں نے یہ بات عید ملن پارٹی کے موقع پر پختونخوا قومی جرگہ کے مرکزی قائدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں علاقائی سلامتی، خارجہ تعلقات اور داخلی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں عبدالنثار ایڈووکیٹ، صالح محمد، فخر عالم خلیل، سجاد خلیل، جلال بریار اور بریگیڈیئر سعید سمیت دیگر مشران نے شرکت کی۔ مقررین نے موجودہ قومی و علاقائی چیلنجز، عوامی مسائل اور پالیسی سازی میں جرگہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔
چیئرمین خالد ایوب نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی سے گریز اور سفارتی روابط کا فروغ ناگزیر ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور مسلم دنیا کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
پاک-افغان تعلقات کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو جنگی راستہ ترک کرکے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سرحدی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے خالد ایوب نے لسانی بنیادوں پر ہونے والی سیاست پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان بھائی چارہ موجود ہے تاہم بعض عناصر اپنے مفادات کے لیے منفی بیانیہ فروغ دے رہے ہیں، جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے معاشی وسائل کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پالیسی سازی میں قومی جرگہ کو شامل کیا جائے تو زمینی حقائق کے مطابق بہتر فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جرگہ کے پاس تنازعات کے حل اور سماجی بہتری کے لیے مؤثر ماڈلز موجود ہیں، جن میں “ڈی آر سی” (تنازعات کے حل کی کونسل) قابل ذکر ہے، جس کے مثبت نتائج مختلف علاقوں میں سامنے آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں روایتی جرگہ نظام طویل عرصے سے مقامی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر بھی متبادل تنازعاتی نظام (ADR) کے تحت ایسے ماڈلز کو جزوی طور پر اپنایا گیا ہے، جس سے عدالتی بوجھ میں کمی اور فوری انصاف کی فراہمی میں مدد ملی ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انصاف کی فراہمی، شفاف طرز حکمرانی اور عوامی شرکت کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پالیسی سازی میں مقامی قیادت اور سماجی اداروں کو شامل کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
اجلاس میں کیے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ قومی سطح پر پائیدار ترقی کے لیے انصاف، شفافیت اور مکالمے پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اگر متعلقہ ادارے ان تجاویز کو عملی شکل دیتے ہیں تو نہ صرف داخلی استحکام بڑھے گا بلکہ علاقائی سطح پر بھی مثبت پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے