
پشاور (احتشام طورو) — محکمہ خوراک خیبر پختونخوا نے انتظامی امور میں بہتری اور کارکردگی کو مؤثر بنانے کے لیے گریڈ 17 اور 16 کے 27 افسران سمیت 12 فوڈ انسپکٹرز کے تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ جاری اعلامیے کے مطابق متعدد اہم عہدوں پر تعینات افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ بعض کو ڈائریکٹریٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شکیل کو ڈائریکٹریٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ راشد جمال کو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسی طرح محمد زبیر کو ملاکنڈ سے پشاور ڈویژن میں تعینات کیا گیا ہے۔ انصر قیوم کو کوہستان سے ہزارہ ڈویژن میں ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شہاب الدین کو سوات سے ڈی ایف سی بونیر تعینات کیا گیا ہے۔
مزید برآں ابوبکر محمود کو کرک سے صوابی، افضل کو صوابی سے ہنگو، کاشف احسان کو لوئر دیر سے مردان، اور آفتاب عمر کو سٹوریج اینڈ انفورسمنٹ پشاور سے راشن کنٹرول پشاور منتقل کیا گیا ہے۔ ارشد حسین کو لوئر چترال سے کوہستان جبکہ امن خان کو ڈی آئی خان سے کوہستان تعینات کیا گیا ہے۔ سید نواز (اپر دیر) کو ڈائریکٹریٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
جمشید خان کو نوشہرہ سے سٹوریج اینڈ انفورسمنٹ پشاور، وسیم کمال کو مردان سے سوات، اور جواد احمد کو اے ڈی ایف سی سے لوئر دیر تعینات کیا گیا ہے۔ توصیف اقبال کو راشن کنٹرول پشاور سے نوشہرہ، ظفر عالم کو پالس سے لوئر چترال، سجاد خان کو بونیر سے اپر دیر، اور اعظم خان کو ساوتھ وزیرستان سے ڈی آئی خان منتقل کیا گیا ہے۔
دیگر تبادلوں میں سید شجاعت شاہ، مستجاب خان، عبدالولی خان، حضرت اللہ، ظہر عباد، ظیر عباد اور فخر سیر شامل ہیں، جنہیں مختلف انتظامی و انسپکشن عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
محکمہ خوراک نے 12 فوڈ انسپکٹرز کے بھی تبادلے کیے ہیں، جن میں ثقلین اعظم، منصور ولی شاہ، زکین احمد، تسبیح اللہ، افتخار، شیراز وحید، محمد اقبال، اعزاز خان، شکیل الرحمان اور مسعود الرحمان شامل ہیں، جنہیں مختلف اضلاع اور ڈائریکٹریٹ میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
محکمہ خوراک کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تبادلے “انتظامی بہتری، شفافیت اور فیلڈ آپریشنز کو مؤثر بنانے” کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف اضلاع میں کارکردگی کے جائزے کے بعد افسران کی نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں تاکہ اشیائے خورونوش کی فراہمی اور قیمتوں کے کنٹرول کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماضی میں بھی محکمہ خوراک میں اس نوعیت کے تبادلے کیے جاتے رہے ہیں، خاص طور پر جب گندم، آٹے اور دیگر بنیادی اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے عوامی شکایات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مؤثر نگرانی اور متحرک انتظامی ڈھانچہ مہنگائی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
عوامی سطح پر ان تبادلوں کو اس امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کہ اس سے اشیائے ضروریہ کی دستیابی بہتر ہوگی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز ہوں گی۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ صرف تبادلوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے جب تک پالیسی سطح پر مستقل اقدامات نہ کیے جائیں۔
آخر میں، محکمہ خوراک کی یہ پیش رفت انتظامی اصلاحات کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے، جس کے نتائج کا انحصار نئی تعیناتیوں پر مامور افسران کی کارکردگی اور حکومتی نگرانی پر ہوگا۔
![]()