مردان (احتشام طورو): قومی اسمبلی کے رکن محمد عاطف خان نے مردان شہر میں صفائی، ٹریفک اور بنیادی سہولیات کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی مشکلات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اعلان انہوں نے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی مردان (WSSCM) کے دورے کے موقع پر ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے اراکین ظاہر شاہ طورو، عبد السلام آفریدی، احتشام علی ایڈووکیٹ، امیر فرزند خان، طارق آریانی، زرشاد خان اور طفیل انجم کے علاوہ ڈبلیو ایس ایس سی ایم کے چیئرمین انجنیئر عادل نواز، بورڈ ممبر ہارون رشید، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فہد افتخار اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر کمپنی کے حکام نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور ادارے کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کی دیگر سینی ٹیشن کمپنیوں کے مقابلے میں WSSCM کو فنڈز کی فراہمی میں کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث شہر میں صفائی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق وسائل کی محدود دستیابی کے باوجود ادارہ شہری خدمات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے، تاہم مالی مشکلات کے باعث کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
محمد عاطف خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مردان شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال، ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباؤ اور سڑکوں کی خستہ حالی جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مردان کے مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اجلاس میں نکاسی آب کے دیرینہ مسائل کے حل، جدید لینڈ فل سائٹ کے قیام، اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سیکٹر میں مؤثر سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کی گئیں۔ ریونیو میں اضافے اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی تعیناتی کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
مزید برآں، خیبر پختونخوا سٹیز امپرومنٹ پراجیکٹ کے تحت جاری سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ، لینڈ فل سائٹ اور گرین اربن اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف شہری ماحول بہتر ہوگا بلکہ صحت عامہ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق شہری آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث مردان کو صفائی، نکاسی آب اور ٹریفک کے مسائل کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے مؤثر انتظام کے لیے جدید نظام کی ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون کے ذریعے مربوط حکمت عملی اختیار کریں گے تاکہ مردان کے مسائل کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
خلاصہ و آئندہ لائحہ عمل:
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوگی اور شہری مسائل کے حل کے لیے عملی پیش رفت سامنے آئے گی، تاہم اس کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے