
پشاور: خیبر یونین آف جرنلسٹس نے ملک بھر کے مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ہراسانی اور مبینہ غیر انسانی رویوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ان اقدامات کو صحافی برادری کے خلاف “کھلی جنگ” قرار دیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر میڈیا مالکان نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، جنرل سیکرٹری ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض میڈیا اداروں کی انتظامیہ ملازمین کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہے، جس سے صحافیوں اور ان کے خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
بیان میں خاص طور پر سماء ٹی وی کی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے ملازمین کے انٹرویوز، بیورو چیفس اور دیگر اسٹاف کو نوٹسز جاری کرنا اور برطرفیوں کی راہ ہموار کرنا دراصل ملازمین کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔ یونین کے مطابق انتظامیہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دنیا نیوز، اب تک نیوز اور دیگر میڈیا اداروں میں بھی پشاور سمیت مختلف بیوروز کے صحافیوں کو ایک ماہ کے نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے ملازمین میں عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز کو کنٹریکٹ سسٹم اور تھرڈ پارٹی ملازمتوں کے ذریعے مستقل دباؤ میں رکھنا ایک استحصالی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام غیر قانونی برطرفیاں فوری واپس لی جائیں، جاری شدہ شوکاز نوٹسز منسوخ کیے جائیں اور تمام واجب الادا تنخواہیں فوری ادا کی جائیں۔
صحافتی تنظیم نے مزید واضح کیا کہ اگر میڈیا اداروں نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو ملک بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا، جس میں احتجاجی ریلیاں، دھرنے، میڈیا ہاؤسز کے دفاتر کا گھیراؤ اور دیگر سخت اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔
پس منظر:
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران میڈیا انڈسٹری مالی مشکلات، اشتہارات میں کمی اور تنظیمی تبدیلیوں کے باعث دباؤ کا شکار رہی ہے۔ مختلف صحافتی تنظیمیں متعدد بار تنخواہوں میں تاخیر، برطرفیوں اور ملازمتوں کے عدم تحفظ کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
ممکنہ اثرات:
ماہرین کے مطابق میڈیا ورکرز میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ نہ صرف صحافتی معیار کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے مستقبل پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر احتجاجی تحریک شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات ملک کے مختلف میڈیا اداروں کی معمول کی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
نتیجہ:
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے حالیہ بیان نے میڈیا انڈسٹری میں جاری ملازمین کے حقوق سے متعلق تنازعے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں میڈیا مالکان اور صحافتی تنظیموں کے درمیان مذاکرات یا ممکنہ احتجاجی اقدامات اس صورتحال کے اہم پہلو ہوں گے۔
![]()