
پشاور (فیاض شاداب) محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی، اقربا پروری اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف انصاف پیرامیڈکس فورم نے عید کے بعد احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فورم کے عہدیداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ صحت میں اہم تقرریوں اور ترقیوں میں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سیکریٹری ہیلتھ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔
پریس کلب پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انصاف پیرامیڈکس فورم کے چیئرمین نے میاں حضرت بلال اور نعمت شاہ آفریدی کے ہمراہ محکمہ صحت کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کے مطابق موجودہ سیکریٹری ہیلتھ کی سرپرستی میں میرٹ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور پسندیدہ افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گریڈ 17 کے ایک جونیئر میڈیکل افسر کو براہِ راست گریڈ 19 کی پوسٹ پر تعینات کیا گیا، جبکہ ماضی میں کرپشن الزامات کے باعث ہٹائے گئے بعض افسران کو دوبارہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ فورم کے مطابق اس قسم کی تقرریاں نہ صرف سروس رولز کی خلاف ورزی ہیں بلکہ محکمہ کی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ سیکریٹری ہیلتھ نے سینیئرٹی لسٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی قریبی رشتہ دار ایک لیڈی ڈاکٹر کو ترقی دے کر مولوی جی ہسپتال میں تعینات کیا، جبکہ مذکورہ ڈاکٹر بنوں جیل میں تعیناتی کے باوجود کئی ماہ سے مبینہ طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں۔ ان الزامات کے حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انصاف پیرامیڈکس فورم نے ہسپتالوں میں مفت ادویات کی دستیابی کے باوجود مریضوں کو باہر سے مہنگے انجکشن اور ادویات خریدنے پر مجبور کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ فورم کے رہنماؤں کے مطابق اس صورتحال کے باعث غریب مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
پریس کانفرنس میں سیکریٹری ہیلتھ کے پی ایس او ڈاکٹر قادر شاہ کے بیرون ملک علاج کے لیے مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی منظوری اور ایک وقت میں دو مختلف مقامات سے مراعات لینے کے الزامات بھی لگائے گئے۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ ان تمام معاملات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران محکمہ صحت میں ہونے والی پوسٹنگز، ٹرانسفرز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کا فوری آڈٹ کرایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ رشوت لے کر بھرتیاں کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے ڈی ایچ اوز کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا تو عید کے بعد سیکریٹری ہیلتھ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا اور احتجاجی تحریک کو صوبہ بھر تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو سابق وزیراعظم کے شفافیت کے وژن کے مطابق اقدامات کرنے چاہئیں۔
سیاسی اور انتظامی حلقوں کے مطابق اگر ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو محکمہ صحت میں انتظامی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں شفافیت، میرٹ اور احتساب کو یقینی بنانا عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔
![]()