
پشاور(فیاض شاداب) پشاور میں فاٹا چیمبرز آف انڈسٹریز کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں قبائلی اضلاع اور پاٹا کی صنعتوں کو مکمل ٹیکس استثنیٰ اور خصوصی ریلیف دیا جائے، کیونکہ دہشت گردی، معاشی بحران اور پاک افغان سرحد کی طویل بندش کے باعث مقامی صنعتیں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاٹا چیمبرز آف انڈسٹریز کے رہنما خالد خان آفریدی نے دیگر چیمبرز کے عہدیداران کے ہمراہ کہا کہ قبائلی اضلاع کی صنعتیں گزشتہ کئی برسوں سے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں کو خصوصی ٹیکس مراعات دینے کے وعدے کیے تھے، تاہم اب تک ان وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
خالد خان آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کی صورتحال اور گزشتہ آٹھ ماہ سے پاک افغان بارڈر کی بندش نے صنعتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خام مال اور تجارتی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث متعدد کارخانے جزوی یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 15 ہزار سے زائد مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرج اضلاع کی صنعتوں پر عائد 10 فیصد سیلز ٹیکس کو فوری طور پر کم کر کے 4 فیصد کیا جائے جبکہ انکم ٹیکس میں بھی خصوصی رعایت دی جائے تاکہ مقامی صنعتیں دوبارہ فعال ہو سکیں۔ ان کے مطابق اگر صنعتوں کو فوری ریلیف نہ ملا تو مزید کارخانے بند ہونے اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران خالد خان آفریدی نے اضا خیل ڈرائی پورٹ پر ایف بی آر، کسٹمز اور خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) کے بعض اہلکاروں پر مبینہ رشوت خوری اور تاجروں کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے تاجروں کے تحفظ اور شفاف کاروباری ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان، آرمی چیف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل کی کہ قبائلی اضلاع کے صنعتکاروں اور تاجروں کو ملاقات کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ انڈسٹری کو درپیش مسائل اور ممکنہ حل پر تفصیلی مشاورت کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق قبائلی اضلاع میں صنعتی سرگرمیوں کا تسلسل نہ صرف مقامی معیشت بلکہ روزگار اور سرحدی تجارت کے استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی بجٹ میں فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات شامل کی گئیں تو اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ اور صنعتی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
![]()