رپورٹ: طاہر منیر طاہر

برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان پریس کلب یوکے کی مجلس عاملہ کا سالانہ اجلاس ہائی ویکمب میں منعقد ہوا، جس میں تنظیمی امور، صحافی برادری کو درپیش جدید چیلنجز، مستقبل کی حکمتِ عملی اور جون میں سالانہ انتخابات کے انعقاد سمیت مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پریس کلب کو صحافیوں کے حقوق، پیشہ ورانہ وقار اور فلاح و بہبود کے لیے ایک مؤثر اور فعال پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔

اجلاس کی صدارت صدر مسرت اقبال راجہ نے کی جبکہ تقریب ہائی ویکمب کے مقامی ہال “دیسی کڑاہی” میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں قائم مقام جنرل سیکرٹری ساجد عزیز، سینئر نائب صدر ارشد رچیال، نائب صدر اسرار راجہ، فنانس سیکرٹری سیدہ کوثر، دھنک لندن، سابق صدر شیراز خان، چوہدری اکرم عابد، شفقت مرزا، ناصر محمود، احتشام الحق، عمران راجہ، ارشد ثانی، سرفراز احمد اور دیگر اراکین نے شرکت کی۔ پاکستان سے برطانیہ کے دورے پر آئے روزنامہ “دی نیشن” کے سینئر صحافی اسد چوہدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

تقریب میں ہائی ویکمب کے سابق میئر اور آئندہ منتخب ہونے والے میئرز نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے صحافی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں پاکستان پریس کلب یوکے کی نمائندگی کو تنظیم کے لیے ایک تاریخی اعزاز قرار دیا اور اسے قیادت کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ بتایا۔

صدر مسرت اقبال راجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریس کلب صرف عہدوں یا رسمی سرگرمیوں تک محدود ادارہ نہیں بلکہ صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور پیشہ ورانہ تحفظ کی مؤثر آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی اور ڈیجیٹل ماحول میں صحافیوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے جدید اور عملی حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔

اجلاس کے دوران اس امر پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا، مصنوعی ذہانت (AI) اور میڈیا انڈسٹری کے بدلتے رجحانات نے صحافت کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ شرکاء کے مطابق برطانیہ میں تارکینِ وطن کمیونٹی کی سماجی و سیاسی تبدیلیاں بھی میڈیا کے کردار کو متاثر کر رہی ہیں، جبکہ میڈیا اداروں کے معاشی مسائل کا براہِ راست اثر صحافیوں کی پیشہ ورانہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔

مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ پریس کلب اپنے اراکین کے لیے برطانوی قوانین کے مطابق قانونی معاونت اور پیشہ ورانہ تحفظ کا باقاعدہ نظام متعارف کروائے گا۔ اس کے علاوہ صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے برطانوی تعلیمی اور صحافتی اداروں کے تعاون سے جدید ڈیجیٹل میڈیا اور AI ٹریننگ ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔

اجلاس میں شفافیت اور اجتماعی مشاورت کے اصولوں کو بھی تنظیمی پالیسی کا حصہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ کلب کے فیصلے محدود حلقوں تک رکھنے کے بجائے تمام اراکین کی مشاورت سے کیے جائیں گے تاکہ تنظیمی جمہوریت اور اعتماد کو مضبوط بنایا جاسکے۔

مجلس عاملہ نے متفقہ طور پر جون میں سالانہ انتخابات اور روایتی سالانہ گالا ڈنر کے انعقاد کی منظوری بھی دی۔ شرکاء کے مطابق آئندہ انتخابات کو صرف عہدوں کی تبدیلی کے بجائے کارکردگی، وژن اور عملی منصوبہ بندی کی بنیاد پر منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ پریس کلب کو برطانیہ کا ایک مؤثر، معتبر اور فعال میڈیا فورم بنایا جاسکے۔

اجلاس کے اختتام پر تمام اراکین نے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، مثبت اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ اور پاکستانی و برطانوی صحافی برادری کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

#PakistanPressClubUK, #Journalism, #UKMedia, #PressClub, #MediaCommunity, #پاکستان_پریس_کلب, #صحافت, #برطانیہ, #صحافی_برادری, #گالا_ڈنر

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے