پشاور (خیبر نامہ نیوز) پشاور میں میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل، جبری استعفوں، غیر قانونی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے ایچ یو جے) نے صوبائی اسمبلی میں اعلان کردہ احتجاج کو فی الحال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے یقین دہانیوں کے بعد کیا گیا۔

اس سلسلے میں پیر کے روز صوبائی اسمبلی میں وزیر اطلاعات شفیع جان اور صحافی نمائندوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، پریس گیلری کے صدر گلزار خان اور دیگر سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر صحافی برادری کو درپیش مسائل اور میڈیا ورکرز کے تحفظ سے متعلق اہم امور تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئے۔

صحافی رہنماؤں نے وزیر اطلاعات کو آگاہ کیا کہ مختلف میڈیا اداروں میں صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز سے جبری استعفے لیے جا رہے ہیں جبکہ درجنوں کارکنوں کو غیر قانونی طور پر ملازمتوں سے فارغ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق بعض اداروں میں مزید برطرفیوں کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جس کے باعث صحافی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

رہنماؤں نے یہ بھی بتایا کہ متعدد میڈیا ادارے اپنے ملازمین کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں اور بقایاجات ادا نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے صحافی شدید مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے صحافیوں کے گھریلو اور پیشہ ورانہ مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی جانب سے میڈیا اداروں کو جاری کیے جانے والے سرکاری اشتہارات کو صحافیوں اور ملازمین کی تنخواہوں اور بقایاجات کی بروقت ادائیگی سے مشروط کیا جائے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے میڈیا مالکان کو مزدور قوانین اور ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد کا پابند بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کم از کم اجرت کے قانون پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

ملاقات کے دوران یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ جن اخبارات اور میڈیا اداروں کو سرکاری اشتہارات جاری کیے جا رہے ہیں، وہاں بے روزگار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو فوری طور پر ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ حالیہ برطرفیوں سے متاثرہ کارکنوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے صحافیوں کے مسائل کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی تنخواہوں، بقایاجات اور ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے بات کی جائے گی تاکہ مسائل کا قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت “پی ڈی ایف مارکہ” اخبارات کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور اخبارات کی حقیقی اشاعت اور پیشہ ورانہ معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے بقایاجات کی ادائیگی کے بغیر اخباری اداروں کے بقایاجات بھی جاری نہیں کیے جائیں گے تاکہ کارکن صحافیوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر شفیع جان نے صحافیوں کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ معاشی مشکلات سے نکل سکیں۔

وزیر اطلاعات کی یقین دہانیوں کے بعد خیبر یونین آف جرنلسٹس نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ اور احتجاجی پروگرام کو فی الحال مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم کے ایچ یو جے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اجلاس کے اختتام پر صحافی نمائندوں نے صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے کی گئی یقین دہانیاں جلد عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گی تاکہ میڈیا ورکرز کو درپیش مشکلات کا مستقل حل ممکن بنایا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے