
پشاور (امجد ہادی یوسفزئی) پشاور میں علمی، ادبی اور تعلیمی حلقوں کی معروف شخصیت پروفیسر ڈاکٹر شاہین عمر کے اعزاز میں ایک پُروقار تقریبِ پذیرائی کا انعقاد کیا گیا، جہاں انہیں تعلیم، ادب اور سماجی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ تقریب کا انعقاد کاروانِ حوا اور خانہ فرہنگ ایران کے اشتراک سے کیا گیا، جس میں شہر کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات، اساتذہ، دانشوروں اور ڈاکٹر شاہین عمر کے قریبی احباب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
یہ تقریب گزشتہ روز پشاور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سابق ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان مشتاق شباب نے کی، جبکہ سابق ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر قاسم مروت مہمانِ خصوصی تھے۔ مقررین نے ڈاکٹر شاہین عمر کی علمی، تدریسی اور انتظامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بطور ماہرِ تعلیم اور منتظم نئی نسل کی تربیت اور خواتین کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ گرلز فرنٹیئر کالج پشاور کی پرنسپل کی حیثیت سے ڈاکٹر شاہین عمر نے تعلیمی معیار کی بہتری، طالبات کی فکری تربیت اور مثبت تعلیمی ماحول کی تشکیل کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت شائستگی، وقار اور علمی بصیرت کا حسین امتزاج ہے، جس سے طلبہ اور ساتھی اساتذہ نے ہمیشہ رہنمائی حاصل کی۔
معروف ادیب ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہین عمر کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی اور یادوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہین عمر محبت، شفقت اور انسان دوستی کی علامت ہیں اور ان کی شخصیت علمی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر خادم ابراہیم نے منظوم تہنیتی کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔
ادبی نشست کے دوران روبینہ معین نے ڈاکٹر شاہین عمر کی شخصیت اور خدمات پر مبنی ایک جامع اور دلکش خاکہ پیش کیا، جبکہ چیئرپرسن کاروانِ حوا بشریٰ فرخ نے اپنا نثری خاکہ اور منظوم کلام پیش کرکے تقریب کو مزید مؤثر اور یادگار بنا دیا۔ شرکاء نے ادبی اظہار اور خراجِ تحسین کے ان اندازوں کو خوب سراہا۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر قاسم مروت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر شاہین عمر کی علمی خدمات نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے بھی باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیات معاشرے میں علم، برداشت اور مثبت اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
صدرِ محفل مشتاق شباب نے اختتامی خطاب میں ڈاکٹر شاہین عمر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی علم و ادب کی خدمت سے عبارت ہے اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
تقریب کے اختتام پر کاروانِ حوا لٹریری فورم کی جانب سے بشریٰ فرخ نے ڈاکٹر شاہین عمر کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا، جبکہ خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسین چاقومی نے انہیں اعزازی سند سے نوازا۔ اس موقع پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب مجموعی طور پر محبت، احترام، علمی وابستگی اور رفاقت کا خوبصورت مظہر ثابت ہوئی، جہاں شرکاء نے ڈاکٹر شاہین عمر کی تعلیمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ معاشرے میں علم و ادب کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی تقریبات آئندہ بھی منعقد ہوتی رہیں گی۔
![]()