دبئی(طاہر منیر طاہر) تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر نیشنل ویمن جرنلسٹس فورم کے وفد نے ریاض منصور ٹرسٹ ہسپتال کا خصوصی دورہ کیا، جہاں وفد نے زیر علاج تھیلیسیمیا کے بچوں کے ساتھ وقت گزارا، ان کی عیادت کی اور ادارے کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو سراہا۔ تقریب میں مقررین نے تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے آگاہی اور شادی سے قبل بلڈ اسکریننگ کو ناگزیر قرار دیا۔

دبئی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاض منصور ٹرسٹ میں منعقدہ تقریب میں نیشنل ویمن جرنلسٹس فورم (نجف) کی صدر فرزانہ چوہدری مہمانِ خصوصی تھیں۔ ان کے ہمراہ کنول نسیم، رابعہ عظمت، نبیلہ اکبر، زاہدہ پروین اکرم، خالدہ اشفاق، نادیہ عامر، آمنہ عامر اور دیگر اراکین بھی موجود تھیں۔

تقریب کے آغاز پر ریاض منصور ٹرسٹ کے صدر محمد نفیس نے وفد کا استقبال کیا اور مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر وفد کو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے علاج، بلڈ ٹرانسفیوژن اور دیگر سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

صدر ریاض منصور ٹرسٹ محمد نفیس نے بتایا کہ ادارے میں سینکڑوں تھیلیسیمیا کے مریض بچوں اور بالغ افراد کو باقاعدگی سے خون کی فراہمی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دیگر صوبوں سے بھی مریض علاج کے لیے یہاں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو علاج کے دوران کھانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جبکہ واپسی پر سفری اخراجات کے لیے ایک ہزار روپے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ غریب خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہو سکے۔

ریاض منصور ٹرسٹ ہسپتال کے صدر محمد انیس نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ ہسپتال کے سرجیکل ٹاور میں بین الاقوامی معیار کے جدید آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں گائنی، آرتھوپیڈک، جنرل سرجری اور امراضِ چشم سمیت مختلف شعبوں میں غریب مریضوں کو مفت آپریشن اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں جدید طبی آلات سے آراستہ لیبارٹری بھی قائم ہے جہاں تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں خون اور دیگر ٹیسٹ عالمی طبی معیارات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور محفوظ طبی ماحول مریضوں کو معیاری علاج فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نیشنل ویمن جرنلسٹس فورم کی صدر فرزانہ چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاض منصور ٹرسٹ دکھی انسانیت کی خدمت کی روشن مثال ہے۔ ان کے مطابق تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں اور ان کے والدین کے لیے یہ ادارہ امید کی کرن بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے معاشرے میں انسان دوستی، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔

فرزانہ چوہدری نے کہا کہ تھیلیسیمیا جیسے موروثی مرض کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ شادی سے قبل بلڈ اسکریننگ ٹیسٹ کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جائے تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔

وفد نے ہسپتال کے مختلف شعبوں بشمول تھیلیسیمیا سینٹر، بلڈ ٹرانسفیوژن سینٹر اور جنرل وارڈ کا بھی دورہ کیا۔ اراکین نے زیر علاج بچوں کے ساتھ وقت گزارا، ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ہسپتال میں فراہم کردہ طبی سہولیات اور انتظامات کو سراہا۔

طبی ماہرین کے مطابق تھیلیسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے جس میں مریضوں کو مسلسل خون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے کئی ممالک میں اس بیماری کے کیسز میں اضافہ تشویش کا باعث ہے، جبکہ ماہرین اس کی روک تھام کے لیے شادی سے قبل اسکریننگ اور عوامی آگاہی کو مؤثر حل قرار دیتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی، مریض بچوں کی معاونت اور انسانیت کی خدمت کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے