پشاور (خیال مت شاہ آفریدی) پشاور میں باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام ہونے والا احتجاجی دھرنا حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔ مذاکرات کے دوران حکومت نے اتحاد کے متعدد اہم مطالبات تسلیم کر لیے جبکہ باڑہ، اکاخیل اور وادی تیراہ میں امن و امان کی بہتری اور متاثرین کی واپسی کے لیے آئندہ جمعہ کو گرینڈ جرگہ بلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق باڑہ سیاسی اتحاد کی جانب سے ایک بڑی احتجاجی ریلی باڑہ بازار سے نکالی گئی جس میں ضلع خیبر سمیت پشاور اور دیگر علاقوں میں مقیم تیراہ متاثرین، نوجوانوں، بزرگوں، قومی عمائدین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء جب پشاور کی جانب روانہ ہوئے تو مختلف مقامات پر ان کا استقبال بھی کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ریلی جب پشتہ خرہ رنگ روڈ چوک کے قریب پہنچی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب مظاہرین کو پشاور کینٹ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی گئی اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ اس دوران متعدد افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مظاہرین نے احتجاجاً پشتہ خرہ رنگ روڈ کو کئی گھنٹوں تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رکھا، جس سے شہریوں کو شدید ٹریفک جام اور آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور سیاسی اتحاد کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ بعد ازاں حکومت اور باڑہ سیاسی اتحاد کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے جن میں سیاسی اتحاد کے پیش کردہ مطالبات اصولی طور پر تسلیم کر لیے گئے۔

مذاکراتی جرگے میں سیاسی اتحاد کی نمائندگی صدر ہاشم خان، حاجی شیرین، شاہ فیصل اور ملک عطااللہ نے کی جبکہ حکومتی وفد میں کمشنر پشاور، آئی جی ایف سی، چیف سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر خیبر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر خیبر اور دیگر متعلقہ حکام شامل تھے۔

سیاسی اتحاد کے رہنما حاجی شیرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مذاکرات کے دوران باڑہ اور اکاخیل میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے آئندہ جمعہ کو ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی سے متعلق باضابطہ اعلان بھی اسی جرگے میں متوقع ہے۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کہا کہ تیراہ کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی، نقل مکانی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد متاثرین میں امید کی نئی فضا پیدا ہوئی ہے۔

رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باڑہ، اکاخیل اور وادی تیراہ میں پائیدار امن کے قیام، متاثرین کی باعزت واپسی، تباہ شدہ گھروں کے معاوضوں کی بروقت ادائیگی، روزگار کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ باڑہ سیاسی اتحاد نے حکومت کے سامنے 14 نکاتی مطالبات پیش کیے تھے جن میں تیراہ متاثرین کی واپسی، زرعی سرگرمیوں کی بحالی، امدادی رقوم کی ادائیگی، ترقیاتی پیکج کی تفصیلات، سرکاری ملازمتوں میں شفافیت، تباہ شدہ مکانات کے معاوضے اور خطے میں دیرپا امن و امان کے قیام جیسے اہم نکات شامل تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مذاکرات کی کامیابی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور متاثرین کے مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب حکومتی وعدوں پر عملی پیش رفت نظر آئے گی اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے