لاہور(امجد ہادی یوسفزئی) لاہور میں منعقدہ قومی مشاورتی اجلاس برائے اقلیتی حقوق میں خیبرپختونخوا کے اہم آئینی و قانونی اداروں کی عدم شرکت نے صوبائی سطح پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومتی سنجیدگی اور متعلقہ کمیشنز کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شرکاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس غیرحاضری کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مؤثر نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔

پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قومی سطح پر منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں اقلیتی حقوق، خواتین کے تحفظ، مذہبی آزادی اور مسیحی عائلی قوانین میں اصلاحات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے، تاہم خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے صوبائی نمائندوں کی عدم شرکت نمایاں رہی۔

نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فار مائنارٹی رائٹس خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن اور اقلیتی حقوق کے کارکن ہارون سراب دیال نے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہم قومی فورمز پر متعلقہ اداروں کی غیرموجودگی اقلیتوں کے مسائل کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ذمہ دار ادارے قومی سطح کی مشاورت میں شریک نہیں ہوں گے تو وہ صوبے میں مذہبی اقلیتوں، خواتین اور بچوں کو درپیش مسائل کی مکمل آگاہی کیسے حاصل کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کی جانب سے اجلاس میں باضابطہ نمائندہ نہ بھیجنا افسوسناک ہے، حالانکہ اجلاس میں ایک خاتون مسیحی مندوب موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے۔

ہارون سراب دیال نے سوال اٹھایا کہ اگر کمیشنز اور کمیٹیاں تشکیل دینے کے باوجود اہم قومی مشاورتی عمل میں شرکت ہی نہ کریں تو ان اداروں کے قیام کا عملی مقصد کیا باقی رہ جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقلیتوں کے مسائل کے دیرپا حل کے لیے تمام متعلقہ قومی اور صوبائی اداروں کی فعال اور مؤثر شرکت ناگزیر ہے۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی بشپ ہمفری سرفراز پیٹر، صوبائی اسمبلی کے اراکین عسکر پرویز اور وزیر زادہ نے کی، جو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور بھی ہیں۔ مقررین نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت اقلیتوں کے آئینی، مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت مسیحی عائلی قوانین میں اصلاحات، عبادت گاہوں کے تحفظ، مذہبی آزادی، مساوی شہری حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق اقلیتی برادری کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے صوبائی نمائندوں کی یقین دہانیوں کو مثبت قرار دیا، تاہم اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ اہم کمیشنز کی غیرحاضری نے مشاورتی عمل کو کسی حد تک ادھورا بنا دیا۔ شرکاء کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ چکی ہیں، اس لیے ایسے حساس معاملات میں ان کی فعال شمولیت ضروری ہے۔

اقلیتی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ قومی مشاورتی اجلاسوں میں تمام متعلقہ اداروں کی شرکت یقینی بنائی جائے تاکہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جامع، مؤثر اور قابلِ عمل پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے