لاہور(احتشام طورو) لاہور میں منعقدہ دو روزہ قومی مشاورتی نشست میں مسیحی عائلی قوانین میں اصلاحات، قانونی برابری اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم سفارشات پیش کی گئیں۔ مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی، قانونی ماہرین، مذہبی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکنان نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ برسوں سے التوا کا شکار مسیحی عائلی قوانین کے مجوزہ مسودے کو فوری طور پر قانونی شکل دی جائے۔

لاہور میں سات انسانی حقوق اور ترقیاتی تنظیموں کے اتحاد، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور اقلیتی حقوق کے کارکنان کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس دو روزہ قومی مشاورت میں 180 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد مسیحی برادری کو درپیش عائلی اور قانونی مسائل پر غور کرنا اور 1872 کے مسیحی شادی کے قانون اور 1869 کے مسیحی طلاق کے قانون میں مجوزہ ترامیم پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔

مشاورتی عمل میں نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن، سوسائٹی فار ہیومن ایکویلٹی اینڈ ایمپاورمنٹ، بائیتک، کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیاء، پیس اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن، ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن تھرپارکر اور بی دی چینج سمیت مختلف تنظیمیں شامل تھیں۔ افتتاحی نشست کی نظامت ایڈووکیٹ عاطف جمیل نے کی، جبکہ مختلف سیشنز میں قانونی، مذہبی اور سماجی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

شرکاء نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 2017 سے زیر التوا مسیحی عائلی قوانین کے مسودہ قانون کو فوری منظور کیا جائے تاکہ مسیحی برادری کو جدید تقاضوں کے مطابق قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ قوانین نوآبادیاتی دور کے ہیں اور بدلتے سماجی حالات کے مطابق ان میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتونی نوید نے خطاب کرتے ہوئے اصلاحات میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا، “اگر جنگل کے لیے قوانین بن سکتے ہیں تو انسانوں کے لیے کیوں نہیں؟” انہوں نے سیاسی اور سماجی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اقلیتی برادریوں کو مساوی حقوق فراہم کیے جا سکیں۔

پنجاب اسمبلی کے اراکین نے کہا کہ شادی محض دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی ادارہ ہے، اس لیے خاندان کے استحکام کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی ضروری ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن نے اس موقع پر کہا کہ ہر مذہب میں لچک اور وسعت موجود ہے، جسے مثبت قانون سازی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری نشست میں مذہبی رہنماؤں اور ماہرینِ الٰہیات نے مسیحی تعلیمات اور قانونی تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی پر گفتگو کی۔ ایک بشپ نے کہا کہ انصاف کے نظام کو معاشرتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنا چاہیے، جبکہ ایک ریورنڈ ڈاکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ مسیحیت میں طلاق کا تصور موجود ہے، تاہم اصل ضرورت اس کی قانونی بنیادوں اور منصفانہ اطلاق کو واضح کرنے کی ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن نورین بانو لہری نے کہا کہ قانون سازی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور تمام مذاہب خواتین پر تشدد کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے میں برداشت، انصاف اور مساوات کے فروغ کے لیے اجتماعی کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ون مین کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے مساوی مواقع اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کو وہ جامع قانونی تحفظ حاصل نہیں جو اکثریتی طبقے کو میسر ہے، اور یہی عدم مساوات اصلاحات کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ ڈاکٹر مریم احسان نے اس موقع پر کہا کہ معاشرتی آگاہی میں اضافہ مثبت پیش رفت ہے اور غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں کے خاتمے سے اصلاحات کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔

اجلاس کے آخری روز مختلف پینل مباحثوں میں میڈیا، اکیڈمیا، سول سوسائٹی اور مذہبی اداروں کے کردار پر زور دیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اقلیتی حقوق کو اکثر مذہبی تنازع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کا معاملہ ہے۔

اختتامی سیشن میں سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر انتونی نوید نے اعلان کیا کہ آئندہ چند ماہ میں سندھ اسمبلی میں متعلقہ بل کی منظوری کے لیے عملی پیش رفت کی جائے گی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کر کے مجوزہ اصلاحات کو جلد قانونی شکل دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر ان اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مسیحی برادری کے خاندانی اور قانونی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ پاکستان میں اقلیتی حقوق، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی انصاف کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے