گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں جمعرات سے سی این جی اسٹیشن دوبارہ کھول دیے جائیں گے اور صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کی مشترکہ کوششوں سے عوام کو درپیش مسائل کے حل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا ڈاکٹر عباد اللہ اور صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتیں متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی این جی کی بندش سے عوام اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا تھا، جس کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان سے فوری مداخلت کی درخواست کی گئی۔

گورنر نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کے لیے 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے بعد جمعرات سے سی این جی اسٹیشنز دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک مسلسل گیس فراہمی کا فیصلہ صوبے کے عوام کے لیے ریلیف ثابت ہوگا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق کو مضبوط بنانا تمام سیاسی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اسی مقصد کے تحت وزیراعظم شہباز شریف سے معاملے کا نوٹس لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے نہ صرف سی این جی مسئلے پر فوری کارروائی کی بلکہ گندم کی ترسیل سے متعلق شکایات پر بھی ایکشن لیا ہے، جس کے باعث ایک دو روز میں گندم کا مسئلہ بھی حل ہونے کی توقع ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہمی بحال کرنے اور اس مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی قائم کرنا مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر علی پرویز ملک کے کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی یکجہتی نے اس معاملے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق عوامی مفاد کے معاملات میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اپنانا خوش آئند ہے۔

اس سے قبل گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گندم اور سی این جی کی بندش کے مسائل پر صوبائی حکومت اور اپوزیشن نمائندوں پر مشتمل جرگے کی قیادت کرتے ہوئے وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی سے ملاقات کی۔ وفد میں صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور سیکرٹری انرجی سمیت دیگر حکام شامل تھے۔

وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ اور علی پرویز ملک کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں پاور ڈویژن، سیکرٹری پیٹرولیم، ایم ڈی سوئی گیس اور متعلقہ وزارتوں کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وفد نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش سے پیدا ہونے والی عوامی مشکلات بھی تفصیل سے زیر بحث آئیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق سی این جی اسٹیشنز کی بحالی سے نہ صرف ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ریلیف ملے گا بلکہ عوامی سفری اخراجات میں بھی کمی متوقع ہے۔ اسی طرح گندم کی ترسیل کے مسئلے کے حل سے صوبے میں خوراک کی فراہمی اور قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے