آج الطاف حسن قریشی ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں ہر دم تازہ رہیں گی

طاہر منیر طاہر- دبئی

پاکستان میں اردو کی سنجیدہ صحافت کی اہم شخصیت الطاف حسن قریشی 16مئی 2026 کو لاہور میں انتقال کر گئے- (إنا لله وإنا إليه راجعون) الطاف حسن قریشی کے انتقال کی خبر علمی و ادبی حلقوں اور اندرون و بیرون ملک "اردو ڈائجسٹ” کے قارئین میں انتہائی دکھ کے ساتھ سنی اور پڑھی گئی –
الطاف حسن قریشی پاکستان کے سب سے معزز اردو صحافیوں، ایڈیٹروں اور سیاسی مبصرین میں سے ایک تھے۔ وہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک مشہور ماہانہ اردو ڈائجسٹ کے طویل عرصے تک ایڈیٹر انچیف کے طور پر جانے جاتے تھے-اردو ڈائجسٹ کا آغاز 1959 میں الطاف حسن قریشی اور ان کے بھائی اعجاز حسن قریشی نے کیا۔ یہ رسالہ پاکستان کے سب سے زیادہ بااثر اردو ڈائجسٹوں میں سے ایک بن گیا-
آپ نے سیاست اور قومی معاملات ، اسلامی فکر اور نظریہ، ادب اور تراجم، سائنس، تاریخ، تعلیم اور سماجی مسائل پر لکھا اور اہم شخصیات کے انٹرویوز کئے -انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اپنے سیاسی نظریات اور اداریوں کی وجہ سے حکومتی دباؤ اور قید کا سامنابھی کرنا پڑا۔
الطاف حسن قریشی مضبوط نظریاتی اور سیاسی تحریروں ، ادارتی سالمیت اور تفصیلی سیاسی تجزیوں کی وجہ سے بہت مشہور تھے-انہوں نے روزنامہ جنگ جیسے بڑے اردو اخبارات کے لیے کالم بھی لکھے۔انہیں پاکستانی صحافت میں ایک اہم قدامت پسند اور نظریاتی آواز سمجھا جاتا تھا-ان کی کئی کتابیں پاکستان کی سیاسی تاریخ، مشرقی پاکستان، صحافت اور قومی شخصیات کے انٹرویوز پر مرکوز تھیں۔
انہوں نے حکومت پاکستان سے ستارہ امتیاز ایوارڈ حاصل کیا اور پاکستانی اخباری تنظیموں جیسے اے پی این ایس اور سی پی این ای کی طرف سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز بھی وصول کئے – انہوں نے وقت کی مناسبت سے بیشمار کتابیں بھی لکھیں جن پر انہیں پذیرائی اور ایوارڈز بھی ملے-
"محترم جناب الطاف حسن قریشی سے میری ملاقات 20 ستمبر 2016 کو سید خالد یزدانی کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پر ہوئی – اس موقع پر میں نے انہیں اپنے والد محترم کے حوالے سے ایک بہت پرا نی بات یاد کروائی جب وہ مرالہ ہیڈ ور کس پر بطور سگنیلر کام کرتے تھے- یہ بات سن کر وہ ماضی میں چلے گئے اور بہت سی پرانی یادیں تازہ کیں- پرانے حوالے سے مل کر وہ بہت خوش ھوئے اور مجھے پھر بھی آنے کی دعوت دی- اس موقع پر انہوں نے مجھے اپنی کتاب "ملاقاتیں کیا کیا” بھی عطا کی-"
آج الطاف حسن قریشی ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں ہر دم تازہ ہیں اور تازہ رہیں گی- ان کے انتقال سے جو علمی ادبی خلاء پیدا ہوا ہے وہ برسوں تک محسوس کیا جاتا رہے گا-پاکستان بھر کے سیاست دانوں، صحافیوں اور میڈیا تنظیموں نے اردو صحافت اور فکری گفتگو میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو ان کی عظمت کا ثبوت ہے- (الله کریم ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے -آ مین)

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے