مردان: عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ لیڈرشپ (آئی بی ایل) میں پہلے بزنس میگزین کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں سابق صوبائی وزیر خوراک و رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ تقریب میں جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد، ڈائریکٹر آئی بی ایل ڈاکٹر احتشام، فیکلٹی اراکین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
تقریب آئی بی ایل ہال میں منعقد ہوئی جہاں ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ لیڈرشپ نے مہمانِ خصوصی اور وائس چانسلر کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اقدام کو تعلیمی و پیشہ ورانہ ترقی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ یہ یونیورسٹی کا پہلا بزنس میگزین ہے جو ادارے کی تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق اس میگزین کے ذریعے طلبہ کو جدید کاروباری رجحانات، مارکیٹ کی ضروریات اور عملی مواقع سے آگاہی حاصل ہوگی، جو ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
مہمانِ خصوصی ظاہر شاہ طورو نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ قیادت، تخلیقی سوچ اور کاروباری مہارتیں بھی ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تقریب کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں شیلڈز اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے، جس سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
پس منظر اور اہمیت:
اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بزنس میگزینز کا اجرا دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ روایت ہے، جس کے ذریعے طلبہ کو تحقیق، تحریر اور کاروباری تجزیے کی عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف جامعات اس رجحان کو فروغ دے رہی ہیں تاکہ طلبہ کو بدلتی معاشی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
عوامی و تعلیمی اثرات:
ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مقامی سطح پر کاروباری سوچ کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں خود روزگاری اور انٹرپرینیورشپ کے رجحان کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
نتیجہ اور آئندہ کا لائحہ عمل:
بزنس میگزین کا اجرا یونیورسٹی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں کو نئی جہت ملے گی بلکہ طلبہ کو عملی دنیا سے جوڑنے میں بھی مدد ملے گی۔ مستقبل میں اس پلیٹ فارم کو مزید وسعت دے کر تحقیق، انڈسٹری روابط اور کاروباری مواقع کے فروغ کے لیے استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے