
پشاور (فیاض شاداب) پشاور میں رحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کینسر کے مریضوں کے لیے جدید سہولیات سے آراستہ نئے آنکالوجی وارڈ اور نگہداشت کے مرکز کا افتتاح کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت کینسر کے علاج کے لیے نجی شعبے خصوصاً آر ایم آئی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی، جبکہ صحت کارڈ کی مالی حد 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
افتتاحی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی جہاں وزیر صحت خلیق الرحمان نے باقاعدہ فیتہ کاٹ کر نئے آنکالوجی وارڈ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر آر ایم آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شفیق الرحمان، چیف آپریٹنگ آفیسر کرنل (ر) طارق، شعبہ آنکالوجی کے سربراہ ڈاکٹر فواد القمر اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
تقریب کے بعد صوبائی وزیر نے نئے وارڈ، آنکالوجی فارمیسی اور دیگر طبی سہولیات کا تفصیلی دورہ کیا۔ ڈاکٹر فواد القمر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نئے وارڈ میں مریضوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تشخیص، علاج اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ان کے مطابق ادارے میں صرف جسمانی علاج پر توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کی ذہنی اور نفسیاتی معاونت کے لیے ماہرینِ نفسیات کی خصوصی ٹیم بھی موجود ہے۔
تقریب میں کینسر سے صحتیاب ہونے والی ایک خاتون مریضہ نے بھی شرکت کی اور اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایم آئی کے ڈاکٹروں، عملے اور بہتر ماحول نے انہیں بیماری سے لڑنے کا حوصلہ دیا، جس کے باعث وہ اب صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے بیان کو شرکاء نے امید اور حوصلے کی علامت قرار دیا۔
صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینسر ایک پیچیدہ اور مہنگا مرض ہے جس کے علاج کے لیے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور صحت کارڈ کی حد بڑھانے سے کینسر سمیت دیگر مہنگے امراض کے مریضوں کو مالی ریلیف مل سکے گا۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر شفیق الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار نئے کینسر کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ 20 فیصد کیسز کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریضوں کے پیش نظر جدید علاج اور مربوط سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا آنکالوجی وارڈ کینسر کے خلاف جاری جدوجہد میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ علاج کے اخراجات عام شہری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ایسے میں صحت کارڈ پروگرام کی مالی حد میں ممکنہ اضافے کو عوامی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جو مہنگے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں اور طبی ماہرین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ جدید آنکالوجی سہولیات کا قیام نہ صرف مریضوں کے علاج میں بہتری لائے گا بلکہ صوبے میں کینسر کی بروقت تشخیص اور نگہداشت کے نظام کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔
![]()