جنوبی ایشیا اس وقت مہنگائی اور توانائی بحران کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں صرف معاشی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ عوامی بے چینی، سیاسی دباؤ اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ بن چکی ہیں۔ بھارت میں حالیہ دنوں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً تین روپے فی لیٹر اضافے نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے، جبکہ پاکستان میں صرف گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں اتنا زیادہ اضافہ عام آدمی کیلئے ایک نئے معاشی طوفان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافے پر بھی شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو حکومت کی معاشی ناکامی قرار دے رہی ہیں۔

بھارتی عوام کا مؤقف ہے کہ روزمرہ زندگی پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہے، ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ٹرانسپورٹ سے لے کر خوراک تک ہر چیز کو مزید مہنگا کر دے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے متبادل معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔

بھارت میں اس سے قبل آخری بار 2022 میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2024 میں حکومت نے عوامی دباؤ اور سیاسی ضرورت کے تحت قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا، جسے حکمران جماعت نے اپنی معاشی پالیسی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔

لیکن حالیہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور مختلف ریاستی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ اسی لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ ایک مرتبہ پھر عوامی اور سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ یہاں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور ہر نیا اضافہ مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے رہا ہے۔

پاکستان میں چونکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور کئی دیگر شعبے براہِ راست ایندھن پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے پیٹرول مہنگا ہونے کا اثر فوری طور پر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایندھن کی قیمت بڑھتے ہی اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اب موٹر سائیکل یا گاڑی میں پیٹرول ڈلوانا بھی مشکل محسوس ہونے لگا ہے۔ روزانہ سفر کرنے والے ملازمین، مزدور، طلبہ اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے نے شہری علاقوں میں سفر کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔ رکشوں، ویگنوں اور بسوں کے بڑھتے ہوئے کرایوں نے متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتی ہے، اسی لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور روپے کی قدر میں کمی براہِ راست مقامی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں اور معاشی دباؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ حکام کے مطابق مشکل فیصلے معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہیں۔

تاہم عوامی حلقے اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر معاشی بحران کا بوجھ صرف عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پاکستان اور بھارت کی قیمتوں کا موازنہ بھی کیا جا رہا ہے۔ کئی صارفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ بھارت میں چند روپے اضافے پر شدید احتجاج سامنے آتا ہے جبکہ پاکستان میں اتنے بڑے اضافے کے باوجود عوام مسلسل مشکلات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی وجہ صرف عالمی منڈی نہیں بلکہ اندرونی معاشی کمزوریاں، ٹیکسوں کا بھاری نظام، ناقص پالیسی سازی اور درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار بھی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔ ایسے افراد پہلے ہی محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، اس لیے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ان کیلئے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ بھی پیدا کر دیتا ہے۔

زرعی شعبہ بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور زرعی مشینری کیلئے ڈیزل ضروری ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے سے فصلوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر بعد میں خوراک کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔

صنعتی شعبے کیلئے بھی بڑھتی ہوئی توانائی لاگت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ ایندھن اور بجلی مہنگی ہونے سے پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

عوام میں یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ معاشی استحکام کے حکومتی دعوے زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر معیشت واقعی بہتر ہو رہی ہے تو پھر مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں جاری ہے۔

بھارت میں اپوزیشن، میڈیا اور سول سوسائٹی پیٹرولیم قیمتوں کے معاملے پر حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں عوامی ردعمل زیادہ تر سوشل میڈیا اور روزمرہ شکایات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔

معاشی ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ پاکستان کو متبادل توانائی ذرائع، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ نظام اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال پر فوری توجہ دینا ہوگی تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

ان کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں مہنگائی اور توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی پر پڑیں گے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دراصل کسی بھی ملک کی معاشی سمت اور حکومتی ترجیحات کی عکاس ہوتی ہیں۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ گھروں کے بجٹ، کاروبار، زراعت اور پورے معاشی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔

آج جنوبی ایشیا کے کروڑوں شہری اسی حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کی زندگیوں کو مشکل تر بناتی جا رہی ہیں، اور حکومتوں کیلئے یہ ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف کیسے فراہم کریں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے