
خیبر(امان علی شینواری) ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے 66 میڈیکل طلباء کے تعلیمی مستقبل پر غیر یقینی کے سائے منڈلانے لگے ہیں، جہاں طلباء تنظیم نے حکومتِ پاکستان سے فوری مداخلت اور طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان واپسی کے لیے خصوصی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر عالم زیب آفریدی نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ بتایا کہ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے 66 طلباء اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق یہ طلباء افغانستان کے مختلف میڈیکل اداروں میں زیر تعلیم ہیں لیکن سرحدی پابندیوں کے باعث اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے واپس نہیں جا پا رہے۔
اس موقع پر تنظیم کے رہنما حضرت عمر آفریدی نے کہا کہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ کر کے اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔
مقررین نے بتایا کہ اس معاملے کو متعدد بار حکومت خیبر پختونخوا کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ نہ صرف سرحدی اجازت کو یقینی بنایا جائے بلکہ طلباء کے لیے ایئر ٹکٹ کا بندوبست بھی کیا جائے تاکہ وہ بروقت اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکیں۔
طلباء تنظیم کے مطابق ان کا وفد کمشنر پشاور آفس، آئی جی ایف سی اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رابطے کر چکا ہے، لیکن اب تک کوئی واضح پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت پاکستان کی جانب سے بھی اس حساس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ مذکورہ طلباء کو پہلے خصوصی اجازت ناموں کے تحت افغانستان سے پاکستان آنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اب واپسی کے لیے طورخم بارڈر پر انہیں روک دیا جا رہا ہے، جس سے ان کی تعلیم براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں کے طلباء پہلے ہی محدود وسائل اور مواقع کا سامنا کرتے ہیں، ایسے میں اس نوعیت کی رکاوٹیں ان کے کیریئر پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو نہ صرف ان طلباء کا تعلیمی نقصان ہوگا بلکہ خطے میں تعلیمی ترقی کے عمل کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔
آخر میں خیبر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کیے جائیں اور طلباء کو درپیش اس سنگین مسئلے کا جلد از جلد حل نکالا جائے تاکہ ان کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔
![]()