
پشاور(امجد ہادی یوسفزئی) خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں معروف لکھاری فائزہ شہزاد کی پہلی مزاحیہ کتاب ’’میں بولوں کہ نہ بولوں‘‘ کی تقریبِ رونمائی ایک باوقار ادبی ماحول میں منعقد ہوئی، جہاں مقررین، ادیبوں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات نے ان کی تخلیقی کاوش کو سراہتے ہوئے اسے اردو مزاح نگاری میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
پھولوں کے شہر پشاور میں بہار کی آمد کے ساتھ ادبی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی سلسلے میں کاروانِ حوا لٹریری فورم اور اباسین آرٹس کونسل کے اشتراک سے خاطر غزنوی آڈیٹوریم میں یہ تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کا انعقاد خوشگوار موسم اور ہلکی بارش کے دوران ہوا، جس نے محفل کے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر کلچر حلیمہ اقبال تھیں، جبکہ مہمانانِ اعزاز میں ڈاکٹر اعجاز خٹک، مشتاق شباب اور کاروانِ حوا کی چیئرپرسن بشریٰ فرخ شامل تھیں۔ تقریب کا آغاز سید حامد محمود کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ تابندہ فرخ نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ نظامت کے فرائض پروفیسر ملک ارشد حسین نے انجام دیے۔
فائزہ شہزاد، جو اپووا (APWA) خیبر پختونخوا چیپٹر کی صدر اور کاروانِ حوا کی جنرل سیکرٹری بھی ہیں، گزشتہ کئی برسوں سے ادبی میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ وہ بطور کالم نگار بھی اپنی شناخت رکھتی ہیں اور ان کے کالم ’’پتلی تماشا‘‘ مختلف قومی و بین الاقوامی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کی اشاعت اس لحاظ سے اہم قرار دی جا رہی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی پہلی خاتون مزاح نگار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ضیغم حسن، فضل کبیر، معروف اداکار نجیب اللہ انجم، مشتاق شباب، ناز پروین، بشریٰ فرخ اور ڈاکٹر شاہین عمر نے کہا کہ فائزہ شہزاد کی تحریروں میں سادہ اور عام فہم زبان کے ساتھ گہرا سماجی مشاہدہ موجود ہے۔ مقررین کے مطابق ان کے مزاح میں محض تفریح نہیں بلکہ معاشرتی مسائل، انسانی رویوں اور روزمرہ زندگی کی پیچیدگیوں کو بھی مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر کلچر حلیمہ اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادبی سرگرمیاں معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ ثقافت مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کی سرپرستی جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق خواتین لکھاریوں کی حوصلہ افزائی معاشرتی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
کاروانِ حوا لٹریری فورم، جو گزشتہ بارہ برس سے خواتین ادیبوں کے لیے پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، ہر سال 8 مارچ کے موقع پر اپنی ممبران کی کتب کی رونمائی کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ رواں سال بھی فورم کے تحت مجموعی طور پر 14 کتب کی رونمائی کی گئی، جو خواتین کی ادبی شمولیت کا واضح ثبوت ہے۔
تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے اس ادبی تقریب کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی۔ حاضرین نے کتاب میں شامل موضوعات کو موجودہ سماجی تناظر میں نہایت موزوں قرار دیا۔
ادبی ماہرین کے مطابق اردو مزاح نگاری میں خواتین کی نمائندگی نسبتاً کم رہی ہے، تاہم فائزہ شہزاد کی یہ کاوش اس خلا کو پُر کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف قاری کو محظوظ کرتی ہیں بلکہ معاشرتی رویوں پر غور و فکر کی دعوت بھی دیتی ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ تقریب نہ صرف ایک کتاب کی رونمائی تک محدود رہی بلکہ اس نے پشاور میں ادبی سرگرمیوں کے تسلسل اور خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کو بھی اجاگر کیا۔ مستقبل میں ایسے مزید ادبی اقدامات سے نہ صرف لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ معاشرے میں مثبت فکری رجحانات کو بھی تقویت ملے گی۔
![]()