امجد ہادی یوسفزئی
پشاور میں بچوں سے مشقت کے خاتمے اور ان کی بحالی کے لیے جاری اقدامات میں تیزی آ گئی ہے، جہاں ہیلویٹاس پاکستان کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس میں مختلف اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مزید تربیت اور کمزور خاندانوں کی معاشی معاونت کے بغیر چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
پشاور میں منعقدہ اس رابطہ اجلاس کا انعقاد ہیلویٹاس پاکستان نے اپنے "انکلیوسیو پروٹیکشن فار ولنریبل چلڈرن (IPVC)” منصوبے کے تحت کیا۔ اجلاس میں پولیس، جیل حکام، اساتذہ، قانونی ماہرین، سماجی کارکنوں اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے فرنٹ لائن ورکرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد بچوں کے تحفظ، تعلیم اور بحالی سے متعلق جاری اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔
اجلاس میں شریک حکام کے مطابق حالیہ تربیتی پروگراموں کے نمایاں مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ سکول سے باہر بچوں کے داخلوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی میں بھی بہتری آئی ہے۔ متعلقہ حکام نے بتایا کہ تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع فراہم کرنے سے بچوں کو محنت مزدوری سے نکال کر مثبت سرگرمیوں کی طرف لانے میں مدد ملی ہے۔
پولیس حکام نے اجلاس میں بتایا کہ بچوں سے متعلق کیسز میں اب زیادہ حساس اور انسانی بنیادوں پر رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جیل انتظامیہ کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ کم عمر قیدیوں کو بالغ قیدیوں سے الگ رکھنے کے اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کی بحالی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے۔ سماجی بہبود کے اداروں کے نمائندوں نے آگاہ کیا کہ بھیک مانگنے والے بچوں کی بازیابی کے لیے مہمات جاری ہیں، اور انہیں رہائش، تعلیم اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
قانونی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں سے متعلق حساس مقدمات میں ان کی شناخت کو خفیہ رکھنا نہایت ضروری ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کو قانونی مدد کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی سپورٹ فراہم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو اس سلسلے میں کلیدی عنصر قرار دیا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں چائلڈ لیبر ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں غربت، تعلیم تک محدود رسائی اور سماجی عدم مساوات شامل ہیں۔ مختلف حکومتی اور غیر سرکاری ادارے گزشتہ کئی برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم اب مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اس میں نمایاں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں لاکھوں بچے کسی نہ کسی شکل میں محنت مزدوری پر مجبور ہیں، جبکہ حالیہ اقدامات کے نتیجے میں پشاور میں سکول داخلوں اور بحالی پروگراموں میں شرکت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم اجلاس کے شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چائلڈ لیبر کی مجموعی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے، جبکہ نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی سازی، مؤثر عمل درآمد اور وسائل کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مزید تربیت، سماجی بہبود کے پروگراموں کا دائرہ کار بڑھانے اور کمزور خاندانوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ ہیلویٹاس پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشاور میں بچوں کے لیے محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔
مستقبل کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار کو برقرار رکھا گیا اور پالیسی سطح پر مستقل مزاجی دکھائی گئی تو نہ صرف چائلڈ لیبر میں نمایاں کمی ممکن ہے بلکہ بچوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے